سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 264
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نام و نسب 264 حضرت صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ حضرت صہیب بن سنان رومی حضرت صہیب کے والد سنان بن مالک اور والدہ سلمیٰ بنت قعید تھیں۔عرب کے ایک قبیلے سے آپ کا تعلق تھا۔اور آپ کے والد یا چا ابلہ شہر پر سری شاہ ایران کی طرف سے حاکم تھے۔ان کی رہائش موصل کے قریب دریائے فرات کے کنارے ایک بستی شتی نامی میں تھی۔اس زمانے میں رومی فوجوں کی جنگ ایرانیوں سے جاری تھی۔رومیوں کے ایک ایسے ہی حملے کے دوران کم سنی کی عمر میں مہیب بھی گرفتار ہو کر رومی علاقے میں لے جائے گئے اور وہاں ایک عرصہ تک رہے۔اس دوران رومی زبان بھی سیکھی۔جس کی وجہ سے عربی میں لکنت ہوتی تھی۔ایک روایت کے مطابق بعد میں قبیلہ بنو کلب نے انہیں خرید کر مکہ میں بیچ دیا اور عبد اللہ بن جدعان التیمی نے انہیں خرید کر آزاد کر دیا۔دوسری روایت کے مطابق صہیب خودسن شعور کے بعد رومیوں کی قید سے فرار ہو کر سکے آئے اور عبد اللہ بن جدعان کے حلیف بن گئے۔بعض اور روایات کے مطابق آپ کا اصل نام عمیرہ تھا، رومیوں نے آپ کا نام صہیب رکھا۔رسول کریم ﷺ نے آپ کی کنیت ابویحی تجویز فرمائی تھی۔(1) آپ کا رنگ سرخ تھا۔میانہ قد، سر کے بال گھنے تھے مہندی لگاتے تھے۔قبول اسلام گھر سے گمشدگی کے بعد آپ کی بہن امید اور چا لبید نے عرب کے میلوں میں اور حج وغیرہ کے مواقع پر آپ کو بہت تلاش کروایا مگر صہیب کہیں نہ ملے۔عبداللہ بن جدعان کے پاس قیام کے دوران ہی آپ کی قسمت جاگی کہ آنحضرت ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا۔انہیں بھی اس دعوی کی خبر ہوئی۔آنحضور ﷺ کا پیغام سننے کے لئے دارارقم میں پہنچے اور اسلام قبول کیا۔حضرت صہیب اور حضرت عمار بن یاسر نے ایک ہی زمانے میں اسلام قبول کیا۔(2) حضرت عمار بن یاسر کا بیان ہے کہ جب دارار تم ابتدائی زمانہ اسلام میں تبلیغ کا مرکز تھا اور ابھی