سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 261 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 261

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 261 حضرت ابان بن سعید رضی اللہ عنہ پورے اعزاز و اکرام سے مکہ لائے۔وہ اپنی خاندانی اور ذاتی شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی سواری سے اتر آئے۔حضرت عثمان کو زمین پر اپنے آگے سوار کیا اور خود انکے پیچھے بیٹھے اور انہیں پیشکش کی کہ مکہ میں آپ جہاں چاہیں جائیں۔اب آپ بنو سعید کی امان میں ہیں جنہیں حرم میں عزت کا مقام حاصل ہے۔حضرت ابان کی پناہ میں حضرت عثمان نے رسول کریم ﷺ کا پیغام اہل ملکہ کو پہنچایا۔ابوسفیان اور دیگر سرداران قریش سے ملاقاتیں کیں۔انہوں نے حضرت عثمان گوطواف کعبہ کی بھی پیشکش کی مگر حضرت عثمان نے کہا میں رسول اللہ ﷺ کے بغیر طواف نہیں کر سکتا۔(4) رسول کریم ﷺ نے فتح بحرین کے بعد جب وہاں کے حاکم علاء بن حضرمی کی معزولی کے بعد حضرت ابان کو وہاں حاکم مقرر فرمایا۔رسول کریم ﷺ کی وفات تک یہ وہاں حاکم رہے پھر مدینہ واپس آگئے۔حضرت ابوبکر نے دوبارہ وہاں بھجوانا چاہا تو پہلے عرض کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد مجھے اس کام پر نہ لگا ئیں تو بہتر ہے۔مگر پھر خلیفہ وقت کی خواہش پر یمن کے ایک حصہ کے والی کے طور پر کام کیا۔حضرت عمرؓ کے زمانہ تک یہ خدمت انجام دیتے رہے۔(5) وہ ایک ذہین اور عادل حاکم تھے۔ولایت یمن کے زمانہ کا واقعہ ہے۔ان کے پاس فیروز نامی ایک شخص نے اپنے کسی عزیز ادویہ کے قتل کا مقدمہ پیش کیا جسے قیس بن مکشوح نے قتل کیا تھا۔حضرت ابان نے قیس کو طلب کر کے پوچھا کہ کیا تم نے کسی مسلمان شخص کو قتل کیا ہے۔اس نے بتایا کہ اول تو دا دو یہ مسلمان نہیں تھا۔دوسرے میں نے اسلام سے پہلے اسے اپنے والد اور چاکے قتل کے بدلے میں مارا تھا۔“ اس پر حضرت ابان نے اپنی تقریر میں یہ مسئلہ کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کیا کہ رسول کریم نے جاہلیت کے تمام خون بہا معاف اور کالعدم قرار دے دئے تھے۔اب اسلام کے زمانہ میں جو شخص کسی جرم کا مرتکب ہوگا ہم اس پر گرفت کریں گے۔پھر حضرت ابان نے قیس سے کہا کہ میں یہ فیصلہ تمہیں لکھ کر دیتا ہوں۔یہ تحریری فیصلہ امیر المومنین حضرت عمرؓ کی خدمت میں پیش کر کے توثیق کر والو۔چنانچہ حضرت عمر کی خدمت میں یہ معاملہ پیش ہوا تو انہوں نے اس کی توثیق فرمائی۔(6)