سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 260
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 260 حضرت ابان بن سعید رضی اللہ عنہ اور عیسٹی کی طرح رسول اللہ ہے ہونے کا دعویدار ہے۔اس نے پوچھا تمہارے صاحب کا کیا نام ہے؟ انہوں نے کہا محمد۔راہب نے رسول اللہ ﷺے کی تمام صفات آپ کی عمر اور نسب سب بیان کر دئے تو ابان نے کہا یہ درست ہے۔اس پر راہب نے کہا کہ یہ شخص پہلے عرب پر پھر ساری دنیا پر غالب آئے گا پھر ابان سے کہا کہ اس نیک شخص کو میر اسلام کہنا۔ابان جب مکہ آئے تو رسول اللہ ہے کے بارہ میں تازہ احوال پوچھے مگر خلاف معمول آپ کی مخالفت میں کوئی بات نہیں کی۔یہ حدیبیہ کے قریب کا واقعہ ہے پھر حضور ﷺ حدیبیہ تشریف لائے اور واپس مدینہ گئے تو ابان بھی پیچھے مدینہ پہنچے اور اسلام قبول کر لیا۔(1) فتح خیبر کے بعد رسول کریم ﷺ نے حضرت ابان کی سرکردگی میں ایک مہم نجد کی طرف بھجوائی۔یہ دستہ فتح خیبر کے بعد واپس لوٹا تو حضرت ابو ہریرہ نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں اپنی رائے پیش کی کہ فتح خیبر کے مال غنیمت سے ان لوگوں کو حصہ نہیں ملنا چاہیے۔جس پر ابان ناراض ہوئے۔رسول کریم علیہ نے منع فرمایا اور پھر ان کیلئے غنائم خیبر سے حصہ نہیں نکالا۔(2) دوسری روایت میں یہ تفصیل ہے کہ حضرت ابان بن سعید رسول کریم ﷺ کی خدمت میں فتح خیبر کے بعد حاضر ہوئے۔نبی کریم ﷺ کی خدمت میں سلام عرض کیا۔حضرت ابو ہریرہ نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کے رنگ میں عرض کیا کہ ابان ایک مسلمان ابن قوقل کا قاتل ہے۔( ابن قوقل بدر میں ابان کے ہاتھوں شہید ہوئے تھے ) حضرت ابان نے جواب صدق دل سے اسلام قبول کر چکے تھے کمال سردارانہ ذہانت اور حاضر جوابی سے اپنا موقف یوں پیش کیا کہ مضمون الٹ کر رکھ دیا۔حضرت ابو ہریرہ سے کہنے لگے تمہارے جیسے شکایت کرنے والے شخص پر مجھے تعجب ہے جو دور کہیں ضان کے پہاڑ سے اتر کر آیا ہے اور مجھ پر ایک ایسے کی موت کا الزام لگا رہا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں مرتبہ شہادت عطا کر کے عزت و کرامت عطا فرمائی اور اسے اس بات سے روک دیا کہ میں اس کے ہاتھ سے ہلاک ہوکر ذلیل ہوں۔(3) غزوہ حدیبیہ کے موقع پر اہل مکہ کو صلح پر آمادہ کرنے کیلئے رسول کریم ﷺ نے حضرت عثمان کو اپنا سفیر بنا کر مکہ بھجوایا۔اس موقع پر حضرت ابان بن سعید نے حضرت عثمان کو اپنی امان میں لیا اور