سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 218 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 218

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 218 حضرت عباس بن مرد ی اللہ عنہ عباس، طالب عقیل اور نوفل کو جنگ میں پائے انہیں قتل نہ کرے۔“ (13) بنو ہاشم کے مجبوراً جنگ میں شامل ہونے کے باوجود قریش کو اندیشہ ہائے دور و دراز تھے کہ وہ کہیں رسول اللہ کی تائید کرتے ہوئے انہیں نقصان نہ پہنچا دیں۔چنانچہ انہوں نے دوران جنگ بنو ہاشم کو حکیم بن حزام کے زیر نگرانی ایک الگ خیمہ میں رکھنے کا حتیاطی انتظام کیا تھا۔پھر جنگ کے دوران جب حضرت عباس اور عقیل کو عبیدہ بن اوس انصاری نے گرفتار کیا تو رسول کریم ﷺ نے اس پر خوشی کا اظہار کیا کہ ان کی جانیں بچ گئیں اور عبید گوفر مایا کہ ان دونوں کی ( صحیح سالم ) گرفتاری کیلئے فرشتے نے تمہاری مدد کی ہے۔(اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ ان کی حفاظت کیلئے دعائیں کر رہے تھے )۔جنگ کے بعد حضرت عباس نے پھر واپس مکہ جا کر اپنے مفوضہ فرائض انجام دینے تھے۔اسلئے ضروری تھا کہ ان کے اخفائے اسلام کی حکمت عملی جاری رکھتے ہوئے ان سے دیگر کفار قید یوں جیسا معاملہ کیا جائے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت عباس سے دیگر قیدیوں کا سا سلوک کرتے ہوئے رسیوں میں جکڑ کر باندھا گیا۔رسول کریم ﷺ کو اپنے مسلمان چا کے قید میں جکڑے ہونے کی حالت میں کراہنے کی آواز سن کر بے چینی سے نیند نہیں آ رہی تھی۔صحابہ کوخبر ہوئی تو انہوں نے حضرت عباس کے بندھن ڈھیلے کر دئے۔رسول کریم ﷺ کو پتہ چلا تو فرمایا کہ سب قیدیوں کے بندھن ڈھیلے کر دو۔رہائی کیلئے حضرت عباس سے فدیہ کا مطالبہ بھی اسی لئے تھا کہ انہیں دیگر قیدیوں جیسا ہی سمجھا جائے۔اس پر وہ خود تعجب سے کہہ اٹھے یا رسول اللہ ! میں تو دل سے مسلمان ہوں۔مجھے مجبوراً جنگ میں لایا گیا ہے۔نبی کریم نے کیا پر حکمت جواب دیا فرمایا ”اللہ آپ کے اسلام کو جانتا ہے اور اگر یہ سچ ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو ضرور اس کی جزا عطا کرے گا۔مگر ہم تو ظاہر پر فیصلہ کریں گے اسلئے آپ اپنا فدیہ ادا کریں۔چنانچہ ان سے 20 اوقیہ سونافد یہ لیا گیا۔یہ ایک مضبوط حکمت عملی تھی تا کہ اس کے بعد بھی حضرت عباس مکہ میں رہ کر رسول اللہ علیہ کیلئے کام کرسکیں۔بعض صحابہ نے اس حکمت کو نہ سمجھتے ہوئے ، حضرت عباس کے مسلمان ہونے کے ناطہ سے رسول کریم سے درخواست بھی کی کہ حضرت عباس کا فدیہ معاف کر دیا جائے لیکن رسول کریم نے بوجوہ یہ درخواست قبول نہیں