سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 217 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 217

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 217 حضرت عباس بن مطلب رضی اللہ عنہ ہوئی تو صرف حضرت عباس رسول کریم میے کے ہمراہ تھے۔آپ نے انصار سے فرمایا کہ مشرکین کے جاسوس تمہارے پیچھے ہیں۔اس لئے تمہارے نمائندے مختصر بات کریں تا کہ مشرک تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچاسکیں۔‘ (8) حضرت عباس کے اخفائے اسلام کی حکمت عملی ابن اسحاق کی کعب بن مالک سے یہ روایت محل نظر ہے کہ بیعت عقبہ کے وقت حضرت عباس اپنے دین پر تھے اور محض اپنے بھتیجے کی تائید کیلئے آئے تھے۔(9) امر واقعہ یہ ہے کہ وہ رسول اللہ علہ کی تائید کیلئے آئے تھے اور ابن اسحاق کی یہ رائے حضرت عباس کے اسلام مخفی رکھنے کی وجہ سے ہے۔کیونکہ اس شدید مخالفت کے زمانہ میں ان کی یہی حکمت عملی رہی، انہوں نے اہل مدینہ کو عقبہ کی رات بھی توجہ دلاتے ہوئے کہا تھا کہ ”آج رات کے والوں نے جاسوس چھوڑ رکھے ہیں تم اپنی سواریوں کی گھنٹیاں بھی اتار دینا اور بیعت کے بعد اپنا معاملہ مخفی رکھنا۔ورنہ مجھے تمہارے بارے میں خوف ہے۔چنانچہ اہل مدینہ نے حضرت عباس سے یہ سب کچھ خفی رکھنے کا وعدہ کیا۔(10) عقبہ ثانیہ کے بعد کفار مکہ کے سخت رد عمل سے بھی حضرت عباس کے اخفاء کی حکمت سمجھ آجاتی ہے۔رسول کریم نے لیلۃ العقبہ میں حضرت عباس کی مکمل تائید و حمایت کو ہمیشہ یاد رکھا۔آپ فرماتے تھے اس رات میرے چچا عباس کے ذریعہ میری تائید و نصرت کی گئی۔“ (11) حضرت عباس اپنے مخفی اسلام کی وجہ سے ہی جنگ بدر میں پہلے پہل لشکر کفار میں شامل نہیں ہوئے جب لشکر مر الظہر ان مقام پر پہنچا تو ابوجہل نے کہا کہ بنو ہاشم کے لوگوں کا اس لشکر میں شامل نہ ہونا فتح یا شکست دونوں صورتوں میں تمہارے لئے نقصان دہ ہے۔پس جیسے بھی ہو ان کو اس جنگ میں ضرور شامل کرو خواہ زبردستی نکال کر ساتھ لے آؤ۔چنانچہ اہل مکہ واپس جا کر حضرت عباس اور دیگر افراد بنو ہاشم کو ساتھ لائے اور انہیں لشکر کفار میں شامل کیا۔(12) ادھر رسول کریم ﷺ کو بھی اس کی اطلاع ہو گئی۔چنانچہ حضرت عباس سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے بدر کے دن اپنے اصحاب سے فرمایا ” مجھے خوب علم ہے کہ بنی ہاشم وغیرہ کے بعض لوگ مجبور جنگ کیلئے مکہ سے نکالے گئے ہیں۔ہمیں ان سے جنگ کی ضرورت نہیں۔اسلئے جو