سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 7
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 7 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ دے کہ معا حضرت ابوبکر تلوار سونتے وہاں کھڑے ہو گئے کہ جو حملہ آور اس طرف بڑھے گاوہ اس کا کام تمام کر دیں گے۔بلاشبہ ابو بکر سب سے زیادہ بہادر انسان تھے۔“ (16) جنگ سے پہلے رسول کریم ہے بے چین ہو کر دعائیں کر رہے تھے۔اس وقت حضرت ابو بکر ہی آپ کو تسلی دے رہے تھے کہ 'یارسول اللہ ﷺ ! بس کریں آپ نے تو اپنے رب سے دعا کرنے میں حد کر دی۔(17) غزوہ احد میں رسول کریم علیہ حضرت ابو بکر کی شجاعت اور بہادری دیکھ کر فرماتے تھے آپ اپنی تلوار روک رکھیں ہمیں آپ کی ذات کا نقصان قبول نہیں۔“ (18) احد کے بعد رسول کریم ﷺ نے دشمن کے تعاقب کا فیصلہ فرمایا تو حضرت ابوبکر ان جانثاروں میں تھے جنہوں نے آپ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے غزوہ حمراء الاسد میں شرکت کی۔(19) غزوہ بنو مصطلق میں مہاجرین کا جھنڈا حضرت ابوبکر کے ہاتھ میں تھا۔(20) اسی غزوہ سے واپسی پر حضرت عائشہ کے ہار کی گمشدگی اور قافلہ سے پیچھے رہ جانے کے باعث ’افک‘‘ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔جس میں آپ کی صاحبزادی ام المومنین حضرت عائشہ پر منافقوں نے بہتان طرازی کی۔اس ابتلاء میں حضرت ابو بکر کی عجیب مومنانہ شان ظاہر ہوئی۔جب حضرت عائشہ رسول اللہ کے گھر سے اپنے والدین کے گھر آئیں تو حضرت ابو بکڑ نے کہا کہ رسول اللہ کی اجازت کے بغیر میں بیٹی کو بھی اپنے گھر میں نہیں رکھوں گا۔پھر حضور کی ہدایت پر انہیں گھر میں ٹھہرایا۔(21) حضرت عائشہ کی براءت نازل ہونے سے پہلے رسول کریم علیے ان کے گھر آئے اور حضرت عائشہ سے فرمایا ” اگر تم سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو تو بہ کرو۔اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔“ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے انتظار کیا کہ میرے والدین میری طرف سے کوئی جواب دیں۔جب وہ خاموش رہے تو میں نے کہا کہ آپ لوگ جواب کیوں نہیں دیتے ؟ انہوں نے کہا ”ہم خدا کے رسول علیہ کو کیا جواب دیں۔تب حضرت عائشہ نے خود اپنا موقف خوب کھول کر بیان کیا اسی موقع پر حضور پر وحی کی کیفیت طاری ہوئی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے سورۃ نور کی وہ آیات اتریں