سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 8
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 8 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جن میں حضرت عائشہ کی براءت کا ذکر تھا۔اس سارے عرصہ ابتلاء میں حضرت ابوبکر کی طرف سے کمال صبر و استقامت اور رسول اللہ ﷺ کے لئے ایثار و فدائیت کا نمونہ ظاہر ہوا۔(22) صلح حدیبیہ کے موقع پر بھی حضرت ابو بکر رسول اللہ علیہ کے ہمرکاب تھے۔کفار کا نمائندہ عروہ بن مسعود مصالحت کیلئے آیا تو آپ سے کہنے لگا میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کے گرد متفرق لوگ جمع ہیں جو مقابلہ کے وقت بھاگ جائیں گے۔حضرت ابو بکر یہ سن کر جوش و غیرت رسول کے باعث خاموش نہ رہ سکے اور اسے سخت برا بھلا کہتے ہوئے جواب دیا کہ ”ہمارے بارے میں یہ کہتے ہو کہ ہم بھاگ جائیں گے یا آپ کو چھوڑ دیں گے؟ اس نے پوچھا یہ کون ہے؟ پتہ چلا ابوبکر ہیں تو کہنے لگا اگر ان کا مجھ پر احسان نہ ہوتا جس کا بدلہ ابھی میں نے نہیں چکا یا تو ضرور اس کا جواب دیتا۔بہر حال حضرت ابوبکر کی دینی غیرت اس موقع پر بھی خوب ظاہر ہوئی۔(23) رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کے وفادار ساتھی حضرت ابو بکر فتح مکہ کے موقع پر بھی آپ کے دائیں جانب ہوتے ہوئے فاتحانہ شان کے ساتھ مکہ میں داخل ہورہے تھے۔(24) امارت و امامت ابو بکر 9 ہجری میں فتح مکہ کے اگلے سال وفود عرب کی مدینہ میں آمد اور دیگر اہم امور کے پیش نظر رسول خدا حج بیت اللہ کے لئے مکہ نہ جا سکے اور حضرت ابوبکر کو امیر المج مقرر فرما کر مسلمانوں کے کثیر التعداد گروہ کے ساتھ روانہ فرمایا۔مسلمانان عالم کا یہ پہلا آزادانہ حج تھا جس کی قیادت حضرت ابوبکر صدیق رسول اللہ ﷺ کی نیابت میں فرمارہے تھے۔(25) حجتہ الوداع کے اگلے سال دس ہجری میں رسول اللہ یہ بیمار ہوئے اور مسجد میں نماز پڑھانے تشریف نہ لا سکے تو امامت نماز کی سعادت حضرت صدیق اکبر کے حصہ میں آئی۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ حضور نے جب حضرت ابوبکر کو امامت کا ارشادفرمایا تو میں نے عرض کیا کہ 'یا رسول اللہ ﷺ وہ رقیق القلب ہیں۔حضرت عمر کو ارشاد فرما دیجئے آپ نے فرمایا ابوبکر کو کہو کہ نماز پڑھائیں پھر میں نے حضرت حفصہ کی وساطت سے یہی بات رسول اللہ کو کہلوائی۔آپ نے پھر وہی جواب دیا۔حضرت حفصہ نے دوبارہ عرض کیا تو فرمایا ” تم وہ عورتیں ہو