سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 193 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 193

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 193 حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ رسی میں باندھ کر مارا کرتا مگر یہ ظلم و استبداد استقامت کے ان شہزادوں میں کوئی لغزش پیدا نہ کرسکا۔(2) مکہ میں قیام کے دوران رسول کریم ﷺ نے حضرت طلحہ کو حضرت زبیر کا بھائی بنا کر روحانی اخوت کا نیا رشتہ عطا کیا۔ذریعہ معاش تجارت تھا۔ہجرت مدینہ کے وقت آپ ملک شام اپنے تجارتی قافلے کے ساتھ گئے ہوئے تھے۔واپسی پر رسول کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر سے ملاقات ہوئی اور حضرت طلحہ گوان کی خدمت میں کچھ شامی لباسوں کا تحفہ پیش کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔آپ نے اہل مدینہ کے یہ احوال بھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کئے کہ وہ کس طرح بے چینی سے سراپا انتظار ہیں۔خود حضرت طلحہ نے مکہ پہنچ کر تجارتی امور سمیٹے ، اور پروگرام کے مطابق حضرت ابو بکر کے اہل وعیال کو لے کر مدینہ روانہ ہوئے۔مدینہ پہنچ کر آپ حضرت اسعد بن زرارہ کے مہمان ٹھہرے اور رسول کریم نے حضرت ابی بن کعب انصاری کے ساتھ آپ کا بھائی چارہ کروایا۔(3) غزوات میں شرکت اور فدائیت ہجرت کے دوسرے سال سے غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو غزوہ بدر میں حضرت طلحہ شامل نہ ہو سکے رسول اللہ ﷺ نے آپ کو مدینہ میں شام کی طرف قافلہ قریش کی اطلاعات لینے کیلئے بھجوایا تھا۔مگر رسول اللہ اللہ نے نہ صرف آپ کو بدر کے مال غنیمت سے حصہ عطا فر مایا بلکہ یہ ارشادفرمایا کہ آپ جہاد کے ثواب سے بھی محروم نہیں ہیں۔کیونکہ آپ خدا کی خاطر جہاد کی نیت اور ارادے رکھتے تھے (4) ایک سال بعد میدان احد میں آپ کو اپنی دلی تمنائیں پوری کرنے کے خوب خوب مواقع ملے۔چنانچہ احد کے میدان میں کفار کے دوسرے حملہ کے نتیجے میں جب مسلمانوں کی صفوں میں بھگدڑ مچی تو صرف چند صحابہ ثابت قدم رہ سکے۔حضرت طلحہ ان میں سرفہرست تھے جو رسول خدا کے آگے وہاں سینہ سپر ہورہے تھے ، جہاں بلا کا رن پڑ رہا تھا۔کفار اپنی تمام تر قوت جمع کر کے بانی اسلام کو نشانہ بنارہے تھے۔چاروں طرف سے تیروں کی بارش ہورہی تھی۔نیزے اور تلوار میں چمک رہی تھیں۔بہادر اور جانباز طلحہ نے جیسے عہد کر رکھا تھا کہ خود قربان ہو جائیں گے مگر اپنے آقا پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے وہ تیروں کو اپنے ہاتھوں پہ لیتے تو نیزوں اور تلواروں کے