سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 192 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 192

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 192 حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نام و نسب حضرت طلحہ بن عبید الله طلحہ کے والد عبیداللہ بن عثمان اور والدہ صعبہ بنت عبداللہ تھیں ساتویں پشت میں مرہ بن کعب پر آپ کا نسب رسول کریم ﷺ سے مل جاتا ہے۔آپ کے والد آپ کے قبول اسلام سے قبل ہی وفات پاگئے تھے۔البتہ والدہ صاحبہ نے اسلام قبول کیا اور بی عمر پائی۔شہادت عثمان کے وقت بھی وہ زندہ تھیں۔چنانچہ محاصرہ کے وقت یہ غیور خاتون اپنے گھر سے باہر آئیں اور اپنے بیٹے طلحہ سے کہا کہ وہ اپنے اثر سے معاندوں کو دور کریں حضرت صعبہ قریباً ۸۰ سال تک زندہ رہیں۔حضرت طلحہ دعویٰ نبوت سے کوئی ۲۵ برس قبل پیدا ہوئے۔ان کا رنگ گندمی اور چہرہ خوبصورت تھا۔بال زیادہ تھے مگر بہت گھنگھریالے نہ تھے۔بالوں کو خضاب نہیں لگاتے تھے۔قبول اسلام اور تکالیف عرب دستور کے مطابق ہوش سنبھالتے ہی تجارتی مشاغل میں مصروف ہوئے۔جوانی میں دور دراز کے تجارتی سفروں کے مواقع میسر آئے اپنے تجارتی سفروں کے دوران شام کے شہر بصرہ میں ایک راہب سے ان کی ملاقات ہوئی اس نے پوچھا کہ کیا احمد ظاہر ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کون احمد ؟ اس نے کہا ابن عبد اللہ بن عبد المطلب۔اس نے اسی مہینہ میں ظاہر ہونا تھا اور وہ آخری نبی ہے اور اس نے حرم سے ظاہر ہو کر کھجوروں والی جگہ کی طرف ہجرت کرنی ہے۔پس تم اس سے محروم نہ رہنا۔حضرت طلحہ کہتے ہیں اسی وقت سے یہ بات میرے دل میں گڑ گئی۔واپس مکہ آیا تو رسول کریم کی بعثت کا علم ہوا۔صدیق اکبر کی صحبت اور دوستی کے ذریعہ سے ایک روز رسول کریم ﷺ کی خدمت میں بازیابی کا موقع ملا اور حضرت ابوبکر صدیق کی دعوت الی اللہ کے نتیجہ میں آپ نے اسلام قبول کرلیا۔(1) انہیں آغاز اسلام میں ابتدائی آٹھ ایمان لانے والوں میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔قبول اسلام کے بعد آپ بھی دیگر مسلمانوں کی طرح کفار کے مظالم کا تختہ مشق ستم بنتے رہے۔آپ کا بھائی عثمان آپ کو اور آپ کے مسلمان کرنے والے ساتھی حضرت ابوبکر کو ایک ہی