سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 194
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 194 حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سامنے اپنا سینہ تان لیتے۔احد میں صحابہ کی ایک جماعت نے رسول کریم ﷺ کے ہاتھ پر موت پر بیعت کی تھی ان میں طلیحہ بھی شامل تھے جنہوں نے اس عہد کا حق ادا کر دکھایا۔(5) نبی کریم ﷺے جنگ کا نقشہ ملاحظہ فرمانے کے لئے ذرا اونچا ہو کر حالات جنگ کو دیکھنا چاہتے تو حضرت طلحہ گھمسان کے اس رن میں اپنے آقا کے لئے بے چین و بے قرار ہو جاتے اور عرض کرتے لَا تُشْرِقِ يُصِيبُكَ سَهُمْ مِنْ سِهَامِ الْقَوْمِ۔رسول اللہ ﷺ آپ دشمن کی طرف جھانک کر بھی مت دیکھیے کہیں کوئی ناگہانی تیر آ کے آپ کو لگ جائے نَحْرِی دُونَ نَحْرِكَ يَارَسُولَ اللهِ۔میرے آقا میرا سینہ آپ کے سینہ کے آگے سپر ہے۔(6) کبھی دشمن ہجوم کر کے آپ پر حملہ آور ہوتے تو آپ شیروں کی طرح ایسے جھپٹتے کہ دشمن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر کے آپ رسول اللہ کو ان کے نرغے سے نکال لاتے۔ایک دفعہ ایک ظالم نے کسی ہلہ میں موقع پا کر رسول کریم عے پر تلوار کا بھر پور وار کیا۔حضرت طلحہ نے اپنے ہاتھ پر لیا اور انگلیاں کٹ کر رہ گئیں تو زبان سے کوئی آہ نہیں نکلی بلکہ کہا کہ بہت خوب ہوا کہ طلحہ رسول خدا ﷺ کی حفاظت میں ٹنڈا ہو گیا۔طلحہ الشلاء کے نام سے آپ مشہور تھے (7) یعنی ٹنڈ ا طلحہ اور بجاطور پر آپ کو حفاظت رسول میں ٹنڈا ہونے پر فخر تھا۔الغرض حضرت طلحہؓ اسی جانبازی اور بہادری سے رسول اللہ ﷺ کی حفاظت پر کمر بستہ رہے۔یہاں تک کہ دیگر صحابہ بھی مد کو آپہنچے تو مشرکین کے حملہ کی شدت میں کچھ کمی آئی۔رسول خدا کو حضرت طلحہ نے اپنی پشت پر سوار کیا اور اُحد پہاڑی کے دامن میں ایک محفوظ مقام پر پہنچا دیا اس موقع پر رسول اللہ نے فرمایا کہ طلحہ نے آج جنت واجب کر لی۔حضرت طلحہ کا سارا بدن زخموں سے چھلنی ہو گیا تھا۔حضرت ابو بکر صدیق نے آپ کے بدن پر ستر سے زیادہ زخم شمار کئے آپ کہا کرتے تھے کہ احد کا دن تو طلحہ کا دن تھا۔خود رسول اللہ نے آپ کی جانبازی کو دیکھ کر آپ کو طلحہ الخیر کا لقب عطا فر مایا کہ طلحہ تو سراسر خیر و بھلائی کا پتلا نکلا اور یہ تو مجسم خیر ہے۔حضرت عمر آپ کو صاحب احد کہہ کر خراج تحسین پیش کیا کرتے تھے کیونکہ احد کے روز حفاظت رسول کا سہرا آپ ہی کے سر تھا۔نیز آپ کو خود اپنی اس غیر معمولی خدمت پر بجا طور پر فخر تھا اور خاص انداز سے یہ واقعہ سنایا کرتے تھے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ احد میں ایسا وقت بھی آیا کہ دائیں جبریان اور بائیں طلحہ کے سوا کوئی