سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 183
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 183 حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ دوسری طرف سے باہر نکل گیا۔اس کی لاش پر بیٹھ کر بمشکل کھینچ کر نیزہ نکالا گیا تو پھل ٹیڑھا ہو چکا تھا۔آنحضرت نے زبیر کی بہادری کے نشان کے طور پر وہ نیزہ حضرت زبیر سے مانگ کر اپنے پاس رکھ لیا تھا۔حضور کی وفات کے بعد خلفائے راشدین میں یہ امانت بطور تبرک منتقل ہوتی رہی۔یہاں تک کہ حضرت عثمان کے بعد حضرت زبیر کے بیٹے حضرت عبداللہ کے پاس یہ نیزہ پہنچا۔جوان کی وفات تک ان کے پاس رہا۔حضرت زبیر نے جس بے جگری سے میدان بدر میں داد شجاعت دی اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ سارا بدن زخموں سے چھلنی تھا۔ایک زخم تو اتنا گہرا تھا کہ ہمیشہ کے لئے بدن میں گڑھا پڑ گیا۔آپ کی تلوار میں بدر کے دن گردنیں مارتے مارتے دندانے پڑ گئے تھے۔بلاشبہ آپ کی اس بہادری پر عرب کے شاعر کا یہ شعر صادق آتا ہے وَلَا غَيْبَ فِيهِم غَيْرَ أَنَّ سُيُوفَهُم بهِنَّ قُلُولٌ مِن كِرَاعِ الكَتَائِبِ کہ ان بہادروں میں کوئی عیب نہیں۔اگر ہے تو بس یہ کہ ان کی تلواروں میں لڑائی اور جنگ آزمائی کے باعث بہت دندانے پڑچکے ہیں۔اور یوں عرب شاعر نے بظاہر مذمت میں لپٹی ہوئی ان بہادروں کی مردانگی کی ایسی اعلیٰ درجہ کی تعریف کر دی کہ اس سے بڑھ کر اور کیا تعریف ہوگی۔(7) غزوہ احد اور خندق میں جانثاری غزوہ احد میں مشرکین کے اچانک حملے کے وقت جب بڑے بڑے غازیوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور جو چودہ صحابہ ثابت قدم رہے ان میں جانثار حواری رسول حضرت زبیر بھی تھے۔جنگ احد میں مشرکین کے واپس جانے کے بعد رسول کریم ﷺ نے جب بعض اطلاعات کی بناء پر یہ خطرہ محسوس کیا کہ دشمن پھر پلٹ کر حملہ آور ہونے کا ارادہ رکھتا ہے تو آپ نے فرمایا ہم ان کا تعاقب کریں گے کون ساتھ دے گا۔تب ستر صحابہ آپ کے ساتھ اس تعاقب میں شریک ہوئے۔حضرت عائشہ حضرت عروہ سے فرماتی تھیں ان میں تمہارے نانا ابوبکر اور دادا حضرت زبیر بھی تھے۔(8)