سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 184 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 184

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 184 حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ غزوہ خندق میں حضرت زبیر کی ڈیوٹی خواتین کی حفاظت پر تھی جس کا حق آپ نے خوب ادا کیا۔مدینہ کے یہود بنو قریظہ کے ساتھ اگرچہ مسلمانوں کا معاہدہ تھا لیکن مشرکین عرب کا چاروں طرف سے مدینہ پر ہجوم دیکھ کر وہ بھی بدعہدی پر اتر آئے۔یہ شدید سردی کے دن تھے۔رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو آواز دی کہ کوئی ہے جو بنوقریظہ کی خبر لائے؟ مارے سردی کے ان کی آواز نہیں نکل رہی تھی۔تین مرتبہ حضور کے آواز دینے پر ہر دفعہ ایک ہی آواز آئی اور یہ آواز جس بہادر اور جری پہلوان کی تھی وہ زبیر تھے۔انہوں نے ہر دفعہ لبیک کہا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان ! میں اس خدمت کے لئے حاضر ہوں۔پھر زبیر جا کر دشمن کی خبریں لے آئے۔جب آپ واپس لوٹے تو رسول اللہ اللہ نے آپ کی فدائیت سے خوش ہو کر فرمایا ہر نبی کا ایک حواری یعنی خاص مددگار ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔(9) اس طرح فرمایا "اے زبیر؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! حضرت زبیر گوحدیبیہ میں بھی شرکت کی توفیق ملی اور رسول کریم نے بدر اور حدیبیہ میں شرکت کرنے والوں کے بارہ میں فرمایا تھا کہ ان میں سے کوئی آگ میں داخل نہ ہوگا۔غزوہ خیبر میں بہادری پھر غزوہ خیبر کا موقع آیا تو یہود خیبر کا رئیس اور بہادر مرحب حضرت علیؓ سے مقابلہ کرتے ہوئے مارا گیا۔اس کا بھائی یا سر نہایت غضبناک ہو کر اپنے بھائی کا انتقام لینے کیلئے میدان میں نکلا۔اور کہا کہ کوئی ہے جو میرے مقابلے پر آئے حضرت زبیر نے آگے بڑھ کر اس کا مقابلہ کیا۔اور اس دیو ہیکل انسان کے مقابلے پر حضرت زبیر کو جاتے دیکھ کر ماں کی ممتا جا گی۔آپ کی والدہ صفیہ پریشان ہو کر کہنے لگیں کہ آج زبیر کی خیر نہیں۔مگر رسول خدا ﷺ نے فرمایا نہیں ایسا نہیں ہوگا۔زبیر اس پر لازما غالب آئے گا۔چنانچہ انہوں نے چند ہی لمحوں میں اس بہادر کو زیر کر لیا۔فتح مکہ اور حنین میں خدمات فتح مکہ کے موقع پر بھی حضرت زبیر ٹوکلیدی خدمات کی توفیق ملی۔پہلے آپ کو حضرت علی کے ساتھ اس مہم میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا۔جو ایک مخبری کرنے والی شتر سوار عورت کو گرفتار