سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 182
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 182 حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ گرفتار کر لیا ہے۔حضرت زبیر نے سنتے ہی تلوار سونتی اور فور رسول اللہ کے پاس پہنچے۔حضور نے دیکھ کر پوچھا یہ کیا۔عرض کیا کہ حضور میں تو آپ کی گرفتاری کا سن کر دیوانہ وار آپ کی طرف چلا آیا ہوں۔رسول اللہ نے نہ صرف اس جانثار فدائی کیلئے دعا کی بلکہ آپ کی تلوار کیلئے بھی دعا کی۔(4) ابتدائے اسلام میں حضرت زبیر پر بھی بہت سختیاں ہوئیں ان کا چا ان کو چٹائی میں باندھ کر دھوئیں کی دھونی دیتا آپ کا دم گھٹنے لگتا۔مگر آپ کلمہ تو حید کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوئے۔اور ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ جو چاہو کر لو میں اس دین سے انکار نہیں کرسکتا۔(5) ظلم و ستم انتہا کو پہنچا تو حبشہ ہجرت کی اور پھر کچھ عرصہ کے بعد مدینہ ہجرت کی سعادت پائی۔مکے میں قیام کے دوران بعد میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت طلحہ گو بھی آپ کا بھائی قرار دیا۔شجاعت ہجرت مدینہ کے بعد حضرت سلمہ بن سلامہ سے بھائی چارہ ہوا جو بیعت عقبہ میں شریک ہونے والے انصار میں سے معزز بزرگ تھے۔آپ کی شجاعت و بہادری ضرب المثل تھی۔غزوہ بدر میں زرد رنگ کا عمامہ سر پر باندھ رکھا تھا۔مسلمانوں کے پاس کل دوگھوڑوں میں سے ایک پر وہ سوار تھے۔اس جنگ میں وہ اس جانبازی اور دلیری سے لڑے کہ جس طرف نکل جاتے دشمن کی صفیں تہ و بالا کر کے رکھ دیتے۔مشہور تھا کہ اس روز فرشتے بھی زبیر کی پگڑی جیسی زرد پگڑیاں پہنے نازل ہوئے تھے۔(6) ایک مشرک نے بلند ٹیلے پر کھڑے ہو کر دعوت مبارزت دی حضرت زبیر لپک کر اس پر حملہ آور ہوئے۔مگر تھوڑی دیر میں قلابازیاں کھاتے ہوئے ٹیلے سے نیچے آنے لگے۔آنحضرت ہو نے فرمایا کہ دونوں میں سے جو پہلے زمین پر آرہے گا وہی ہلاک ہوگا۔اور ایسا ہی ہواوہ مشرک پہلے زمین پر گرا اور مارا گیا۔میدان بدر میں ایک اور سُور ما عبیدہ بن سعید سر سے پاؤں تک زرہ بند تھا اور صرف آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔حضرت زبیر اس کے مقابلے میں بھی نکلے اور تاک کر اُس کی آنکھ میں ایسا نیزہ مارا کہ وہ