سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 174 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 174

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 174 حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ اس نے بھی مشورہ دیا کہ دین ابراہیمی کی پیروی کرو۔“ انہوں نے کہا ” اس کا مجھے علم ہے اور اسی دین پر میں قائم ہوں۔رہی ان پتھروں اور لکڑی کی صلیب کی عبادت جن کو خود ہاتھ سے تراشا جائے ان کی کیا حقیقت ہو سکتی ہے؟‘ (3) تب زید شام سے واپس لوٹے اور ہاتھ اُٹھا کر دعا کی کہ خدایا! تو گواہ رہ میں دین ابراہیمی کا پیرو ہوں اور زید کو بجاطور پر اپنی اس سعادت پر فخر تھا۔مجیر بن ابی احصاب سے روایت ہے کہ سفر شام سے واپسی پر میں نے زید بن عمر وکو یو انہ بہت کے پاس دیکھا کہ وہ غروب آفتاب کا انتظار کرتے رہے پھر انہوں نے خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے دورکعت نماز ادا کی۔پھر کہا یہ ابراہیم و اسماعیل کا قبلہ ہے۔میں بتوں کی پرستش نہیں کرتا، نہ ان کی خاطر نماز پڑھتا ہوں نہ ہی ان کے لئے قربانی دیتا ہوں۔نہ ان پر چڑھائی گئی قربانی کا گوشت کھاتا ہوں۔نہ تیروں سے قسمت معلوم کرتا ہوں۔زید حج میں عرفات میں ٹھہرتے اور یہ تلبیہ پڑھتے تھے لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَلَا نِدَّلَک۔میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں نہ تیرا کوئی ہمسر ہے۔پھر عرفہ سے واپس آتے ہوئے کہتے میں حاضر ہوں تیری عبادت کرنے والا۔تیرا غلام۔(4) زید ہی تھے جنہوں نے جاہلیت اور شرک کے اس گہوارہ مکہ میں یہ نعرہ بلند کیا تھا۔أَرَبَّا وَّاحِدَ أَمُ أَلْفُ رَبِّ أَدِينُ إِذَا تَقَسَّـمَـتِ الْأُمُورُ تَرَكْتُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى جَمِيعًا كَذَالِكَ يَفْعَلُ الرَّجَلُ الْبَصِيرُ یعنی کیا میں ایک خدا پر ایمان لاؤں یا ایک ہزار ایسے بتوں کو خدا مانوں۔جنہوں نے معاملات میں تقسیم کار کی ہوئی ہے ہر گز نہیں۔میں نے لات و عزیٰ کو چھوڑ دیا ہے اور ہر صاحب بصیرت انسان ایسا ہی کرے گا۔حضرت اسماء بنت ابی بکر بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ میں نے زید کو کعبہ کے پاس یہ کہتے سنا۔اے گروہ قریش خدا کی قسم ! میرے سوا تم میں سے کوئی بھی دین ابراہیمی پر قائم نہیں۔“ عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ زید شرک اور بت برستی کے برخلاف ہو کر اپنی قوم سے کنارہ