سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 175 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 175

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 175 حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کش تھے ایک دفعہ مجھ سے کہا کہ ” میں بنی اسماعیل میں سے ایک نبی کا منتظر ہوں۔نامعلوم مجھے اس کا زمانہ میسر آ سکے گا یا نہیں؟ مگر میں اس پر ایمان لاتا ہوں کہ وہ نبی ہے۔تمہاری زندگی میں اگر وہ آ گیا تو تم اسے میر اسلام پہنچانا۔عامر کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے دعوی کے بعد میں مسلمان ہوا تو حضور کو زید کا سلام پہنچایا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اس پر بھی سلام ہو اور اللہ اس پر رحم کرے۔پھر فرمایا کہ میں نے زید کو جنت میں اپنی چادر گھسیٹ کر چلتے دیکھا ہے۔(5) بعض عربوں میں جاہلیت کی ایک بدرسم لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا تھی۔زید نے معصوم بچیوں کے حق میں آواز بلند کی۔آپ ایسی بچیوں کی کفالت اپنے ذمہ میں لے کر ان کی جان کے لئے آمان مہیا کیا کرتے تھے۔بچی کے جوان ہونے پر والدین سے کہتے کہ چاہو تو تمہیں واپس کر دیتا ہوں کہو تو اس کے سارے انتظام ( شادی بیاہ وغیرہ ) خود کرتا ہوں۔(6) زید کے بیٹے سعید بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرا باپ اگر آپ کا زمانہ پا تا تو ضرور ایمان لے آتا آپ اس کے لئے خدا سے بخشش طلب کریں۔نبی کریم اللہ نے زید کے لئے بخشش کی دعا کی اور فرمایا وہ قیامت کے دن ایک امت ہوگا۔‘ (7) نبی کریم ﷺ کے ارشاد کے بعد مسلمان جب بھی سعید کے والد کا ذکر کرتے تو ان کے لئے بخشش اور رحم کی دعا کرتے۔(8) قبول اسلام کے بعد استقامت اور اسکی برکت حضرت سعید بن زید ایسے موحد انسان کی اولاد تھے۔جب رسول اللہ ﷺ نے تو حید کی آواز بلند کی تو حضرت سعید اولین لبیک کہنے والوں میں سے ہوئے۔ان کی بیوی فاطمہ جو حضرت عمرؓ کی سگی بہن تھیں ساتھ ہی مسلمان ہوگئیں۔حضرت عمر کوخبر ہوئی تو سخت رد عمل دکھایا انہیں قید و بند کی صعوبت دی۔(9) حضرت عمرؓ ایک دفعہ غصے میں ان کے پاس پہنچے اور مار مار کر لہو لہان کر دیا۔حضرت فاطمہ نے کہا اے عمر جو چاہو کر لو اب اس دل سے اسلام تو نہیں نکل سکتا۔زخمی ہو کر ان کے پائے ثبات میں کوئی لغزش نہ دیکھ کر حضرت عمر کا دل پسیجا اور انہوں نے وہ کلام سننے کی خواہش کی جو یہ دونوں پڑھ