سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 109 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 109

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 109 حضرت علی رضی اللہ عنہ پڑھو۔حضرت علی کہتے ہیں میں آنکھیں ملتا ہوا اُٹھا اور بڑ بڑاتے ہوئے کہ بیٹھا ”خدا کی قسم ! جو نماز ہمارے لئے مقدر ہے ہم وہی پڑھ سکتے ہیں۔ہماری جانیں اللہ کے قبضہ میں ہیں وہ جب چاہے ہمیں اُٹھادے۔رسول کریم ﷺے واپس لوٹے۔آپ نے تعجب سے اپنی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے میرا ہی فقرہ دہرایا کہ ہم کوئی نماز نہیں پڑھ سکتے سوائے اس کے جو ہمارے لئے مقدر ہے پھر یہ آیت تلاوت کی وَكَانَ الْإِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا “ (الكيف: 55) کہ انسان بہت بحث کرنے والا ہے۔نبی کریم ﷺ نے حضرت علی اور ان کے خاندان کو اہل بیت میں سے قرار دیا، انکے لئے دعائیں کیں ان کی اعلیٰ تربیت کی اور نیک تو قعات رکھیں۔روایت ہے کہ نبی کریم کے چھ ماہ تک فجر کی نماز کے وقت حضرت فاطمہ کے دروازے کے پاس گزرتے ہوئے فرماتے رہے۔”اے اہل بیت ! نماز کا وقت ہو گیا ہے اور پھر سورہ احزاب کی آیت:33 پڑھتے کہ ” اے اہل بیت ! اللہ تم سے ہر قسم کی گندگی دور کرنا چاہتا ہے اور تم کو اچھی طرح پاک کرنا چاہتا ہے۔“ رسول کریم ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ میں تجھے ایسے دعائیہ کلمات نہ سکھاؤں جو تم پڑھو تو اللہ تعالیٰ کی مغفرت تمہیں نصیب ہو جائے۔انہوں نے عرض کیا ضرور بتائیں۔آپ نے فرمایا یہ كلمات لا إلهَ إِلَّا الله العليم العَلِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ العَلِيُّ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَ رَبُّ العَرْشِ العَظِيمِ (17) یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ حلم والا اور جاننے والا ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بہت بلند اور عظیم ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ آسمانوں اور عظیم عرش کا رب ہے۔غزوہ احد میں داد شجاعت بدر کے بعد معرکہ احد میں بھی شیر خدا حضرت علیؓ نے کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے۔جب مشرکین نے دوبارہ مسلمانوں پر حملہ کیا اور اسلام کے علمبر دار مصعب بن عمیر شہید ہو گئے اس بھگدڑ میں کئی اصحاب کے پاؤں اکھڑ گئے۔حضرت علی ان میں تھے جو ثابت قدم رہے۔آپ نے موت