سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 110
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 110 حضرت علی رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ کی بیعت کی اور آگے بڑھ کر اسلامی جھنڈا سنبھالا۔اور نہایت بے جگری سے لڑے۔(18) مشرکین کے علمبر دار سعد بن ابوطلحہ نے حضرت علی کو للکارا۔انہوں نے آگے بڑھ کر ایساوار کیا کہ وہ زمین پر ڈھیر ہو کر تڑپنے لگا۔حضرت علی نے یکے بعد دیگرے کفار کے علمبرداروں کو تہ تیغ کیا۔رسول اللہ نے کفار کی ایک جماعت دیکھ کر حضرت علی گوان پر حملہ کرنے کا ارشاد فرمایا۔حضرت علی نے عمرو بن عبداللہ تھی کو قتل کر کے انہیں منتشر کر دیا۔پھر کفار کے دوسرے دستہ پر حملہ کرنے کا حکم فرمایا اور علی نے شیبہ بن مالک کو ہلاک کیا۔رسول اللہ ﷺکے فرمایا ہاں علی مجھ سے اور میں علی سے ہوں۔اس موقع پر بھی آواز سنی گئی کہ لا فتى إِلَّا عَلى لَا سَيفَ إِلَّا ذُو الفِقَارِ۔کہ ذوالفقار کے سوا کوئی تلوار نہیں اور علی کے سوا کوئی جوان مرد نہیں۔حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ احد میں بھگڈر کے بعد مجھے رسول اللہ علہ نظر نہ آئے۔میں نے مقتولین کی نعشیں بھی دیکھ ڈالیں جب آپ گونہ پایا تو دل میں کہا کہ خدا کی قسم رسول اللہ بھاگنے والے تو نہیں اور نہ ہی مقتولین میں ہیں۔معلوم ہوتا ہے خدا نے ہم سے ناراض ہو کر انہیں اٹھا لیا ہے۔اب تو بہتر یہی ہے کہ میں لڑ کر جان دے دوں۔چنانچہ میں نے لڑتے لڑتے تلوار کا اگلا سرا تو ڑ دیا۔پھر حملہ کر کے آگے بڑھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ علیہ دشمن کے عین درمیان تھے۔حضرت علی نے غزوہ احد سے واپسی پر اپنی تلوار حضرت فاطمہ کے سپرد کی اسے سنبھال رکھیں آج یہ جنگ میں خوب کام آتی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے سن کر فرمایا ہاں! اے علی ! آج آپ نے بھی خوب تلوار زنی کی ہے ،مگر فلاں صحابہ نے بھی کمال کر دکھایا۔(19) مشرکین کے حملے کا زور ٹوٹا تو حضرت علی چند صحابہ کے ساتھ آنحضرت ﷺ کواحد پہاڑ کے دامن میں لے گئے۔حضور کا چہرہ خون آلودہ تھا۔آپ اپنی زرہ میں پانی بھر بھر لاتے اور حضرت فاطمہ آنحضرت ﷺ کے زخم مبارک دھوتیں پھر بھی خون بند نہ ہوا تو چٹائی جلا کر اس کی راکھ حضرت فاطمہ نے زخم میں ڈالی اور تب جا کر کہیں خون بند ہوا۔غزوہ خندق میں