سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 108
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 108 حضرت علی رضی اللہ عنہ میں درد ہونے لگا ہے۔آپ کے ابا کے پاس کچھ قیدی آئے ہیں، جا کر درخواست کرو کہ ہمیں بھی ایک خادم عطا ہو۔فاطمہ کہنے لگیں خدا کی قسم ! میرے تو خود چکی پیس پیس کر ہاتھوں میں گئے پڑگئے ہیں۔چنانچہ وہ نبی کریم کے پاس آئیں۔آپ نے پوچھا کہ کیسے آنا ہوا؟ عرض کیا کہ سلام عرض کرنے آئی ہوں۔پھر انہیں حضور ﷺ سے کچھ مانگتے ہوئی شرم آئی اور واپس چلی گئیں۔حضرت علیؓ نے پوچھا کہ کیا کر کے آئی ہو؟ وہ بولیں کہ میں شرم کے مارے کوئی سوال ہی نہیں کرسکی۔تب وہ دونوں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور کی خدمت میں اپنا حال زار بیان کر کے خادم کے لئے درخواست کی۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا خدا کی قسم! میں تمہیں دے دوں اور اہل صفہ (غریب صحابہ ) کو چھوڑ دوں؟ جو فاقہ سے بے حال ہیں اور ان کے اخراجات کے لئے کوئی رقم میسر نہیں۔ان قیدیوں کو فروخت کر کے میں ان کی رقم اہل صفہ پر خرچ کروں گا۔یہ سن کر وہ دونوں واپس گھر چلے گئے۔رات کو نبی کریم ﷺ ان کے گھر تشریف لے گئے۔وہ اپنے کمبل میں لیٹے ہوئے تھے۔رسول اللہ ع کو دیکھ کر وہ اُٹھنے لگے تو آپ نے فرمایا۔اپنی جگہ لیٹے رہو۔پھر فرمایا جو تم نے مجھ سے مانگا کیا میں اس سے بہتر چیز تمہیں نہ بتاؤں؟ انہوں نے کہا ضرور بتائیں۔آپ نے فرمایا یہ چند کلمات ہیں جو جبریل نے مجھے سکھائے ہیں کہ ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ، دس مرتبہ احمد اللہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو۔جب رات بستر پر جاؤ تو تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو۔حضرت علیؓ فرماتے تھے جب سے رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ کلمات سکھائے میں انہیں آج تک پڑھنا نہیں بھولا۔کسی نے تعجب سے پوچھا کہ جنگ صفین کے ہنگاموں میں بھی نہیں بھولے؟ کہنے لگے ہاں جنگ صفین میں بھی یہ ذکر الہی کرنا میں نے یادرکھا تھا۔نبی کریم نے ایک اور صحابی کو یہی تسبیحات سو کی تعداد میں پڑھنے کی نصیحت کی اور فرمایا کہ اس تسبیح کی برکت تمہارے لئے سوغلاموں سے بڑھ کر ہے۔حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم علیہ رات کو ہمارے گھر تشریف لائے مجھے اور فاطمہ کو تہجد کے لئے بیدار کیا۔پھر آپ اپنے گھر تشریف لے گئے کچھ دیر نوافل ادا کئے۔اس دوران ہمارے اٹھنے کی کوئی آہٹ محسوس نہ کی تو دوبارہ تشریف لائے ہمیں جگایا اور فرمایا اٹھو نماز