سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 94 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 94

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 94 حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہے جو ہیر رومہ خرید کر مسلمانوں کیلئے مفت پانی کا انتظام کر دے۔میں ایسے شخص کے لئے جنت میں کنوئیں کی ضمانت دیتا ہوں۔اس وقت حضرت عثمان آگے بڑھے اور اس یہودی کے ساتھ کنواں خریدنے کے لئے رابطہ کیا۔عام حالات میں تو کنوئیں کی قیمت اتنی نہ تھی مگر وہ یہودی جانتا تھا کہ ایک ہی کنواں ہے اور مسلمان مجبور ہیں ، منہ مانگے دام مجھے ملیں گے تو وہ بیچنے ہی سے انکار کرتا تھا تا کہ اس کی قیمت بڑھ جائے۔بالآخر جب راضی ہوا تو اس نے کہا میں آدھا کنواں بیچوں گا ایک دن آپ اس کا پانی استعمال کیا کریں اور ایک دن میں خود اس کا پانی بیچا کروں گا۔وہ جب اس کے سوا کسی بات پر راضی نہ ہوا تو حضرت عثمان نے اس کنوئیں کی منہ مانگی قیمت بارہ ہزار درہم ادا کر دی جو اُس زمانے کے لحاظ سے بہت بڑی قیمت تھی۔آپ کا مقصد محض خدا اور اس کے رسول کی خوشنودی اور رضا تھی۔پھر خوشی خوشی جا کر وہ تحفہ آنحضرت کی خدمت میں پیش کر دیا۔آنحضرت اپنی یہ مراد پا کر بہت خوش ہوئے اور حضرت عثمان غنی کو جنت کی خوش خبری عطافرمائی۔(53) پھر حضرت عثمان نے مسلمانوں کے لئے مفت پانی کا اعلان کر دیا۔ادھر یہودی نے جب یہ دیکھا کہ مسلمان تو اپنی باری میں سارا پانی نکال کر لے جاتے ہیں اور اس کے پاس کوئی خریدنے کیلئے نہیں آتا تو اس کو احساس ہوا کہ اس نے بہت بڑی غلطی کی ہے دوسرا آدھا حصہ بھی بیچ دینا چاہیئے تھا۔اب وہ خود حضرت عثمان کے پاس آیا اور کہا کہ بقیہ حصہ بھی آپ خرید لیں حضرت عثمان اگر چاہتے تو اب قیمت حسب منشا گرا سکتے تھے مگر آپ نے کنوئیں کا دوسرا حصہ بھی آٹھ ہزار درہم میں خرید کر سا را کنواں مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا۔جب مسجد نبوی کی توسیع کا مسئلہ پیدا ہوا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اردگرد کے مکانات خرید کر مسجد میں شامل کر لئے جائیں۔اس کیلئے رقم کی ضرورت تھی تا کہ اردگرد کے مکان مسجد کے لئے خریدے جاسکیں۔اس وقت بھی حضرت عثمان آگے بڑھے اور انہوں نے پندرہ ہزار درہم کی قربانی اُس وقت پیش کی اس کے نتیجے میں مسجد نبوی کی توسیع عمل میں آئی۔(54) رسول کریم ہے کے ساتھ حضرت عثمان کو بھی توسیع کے وقت اینٹ رکھنے کی سعادت عطا ہوئی۔(55) فتح مکہ کے بعد مسجد حرام یعنی خانہ کعبہ کی توسیع کا معاملہ پیش ہوا۔آنحضرت ﷺ نے تحریک