سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 533
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 533 حضرت جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ ہوتی تو عام لوگوں کے اسلوب سے ہٹ کر ہمدردی و خیر خواہی اور وفاء بیعت کے تقاضا سے کہتے۔" تمہیں پتہ ہونا چاہیے کہ جو ہم نے تم سے خریدا ہے وہ ہمیں اس سے زیادہ اچھا لگتا ہے جو ہم نے تمہیں اسکے عوض دیا ہے۔یعنی دھوکے میں سودا نہیں ہوا۔یہ تقویٰ کی باریک راہوں پر چلنے کا انداز تھا۔(11) حضرت جریڑا کوفہ میں قیام پذیر تھے۔کوفہ کے امیر حضرت مغیرہ بن شعبہ فوت ہو گئے حضرت جریر نے بظاہر بے نظمی اور انتشار کے اس ہنگامی موقع پر مسلمانوں کو متحد رکھنے اور اہل کوفہ سے کمال ہمدردی کرتے ہوئے ایک خطبہ دیا۔اس میں کہا ” تمہارا امیر فوت ہو گیا ہے نئے امیر کے آنے تک امن سے انتظار کرو۔لوگو! اپنے امیر کیلئے مغفرت طلب کرو۔وہ بھی تم سے عفو سے کام لیتا تھا۔جب میں نے رسول کریم ﷺ کی بیعت خیر خواہی کی شرط پر کی تھی۔اس مسجد کے رب کی قسم میں تمہارا خیر خواہ ہو کر یہ کہہ رہا ہوں۔“ (12) حضرت جریر کی سیرت کے نمایاں وصف نرمی ، انکسار اور تواضع تھے۔وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ علیہ نے فرمایا جو نرمی سے محروم ہے وہ خیر سے محروم ہے۔حضرت انس کہتے ہیں جزایر مجھ سے عمر میں بڑے تھے مگر سفر میں میری خدمت کرتے اور کہتے آپ انصار مدینہ میں سے ہیں اور رسول اللہ اللہ کے خادم رہ چکے ہیں۔(13) حضرت جریر قبول اسلام کے بعد ہمیشہ تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم مارنے کی سعی کرتے تھے۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ اچانک نامحرم عورت پر نظر پڑ جائے تو انسان کیا کرے تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ نظر پھیر لیا کریں۔(14) حضرت جریر اپنا آنکھوں دیکھا ایک اور عجیب نظارہ میں بیان کرتے ہیں کہ قبول اسلام کے بعد انہوں نے دیکھا کہ کسی غریب قوم کے فاقہ سے بد حال لوگوں کا ایک وفد آیا۔رسول اللہ ﷺ کا رنگ ان کی فاقہ کی حالت دیکھ کر متغیر ہو گیا۔پھر حضور نے خطبہ دیا جس میں سورۃ نساء کی پہلی اور سورۃ حشر کی آیت (19) وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ پڑھی اور مالی امداد کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا کہ جس کی جو توفیق ہو درہم ، کپڑے، گندم، کھجور حتی کہ نصف کھجور کی بھی توفیق ہو تو دو۔ایک انصاری کچھ کھجور میں لے آئے پھر دوسرا کچھ اور لے آیا۔یہاں تک کہ غلے کھانے اور