سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 510
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 510 حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ حضرت سلمان کی زندگی کی کہانی جہاں ایک مذہبی آدمی کیلئے سبق آموز اور ایمان افروز ہے وہاں ایک عام انسان کیلئے بھی نہایت دلچسپ ہے۔ان کی آپ بیتی خود انہی کی زبانی مختلف و متفرق روایات کو جمع کرنے سے جو روپ دھارتی ہے۔وہ کچھ یوں ہے۔آپ بیتی میں ( سلمان ) اصبہان کی بستی تھی کا رہنے والا ایک ایرانی ہوں۔میرے والد علاقہ کے زمیندار تھے، میں ان کی پیاری اولا د تھا۔وہ مجھے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ چاہتے تھے۔اسی وجہ سے گھر سے باہر ایک قدم نہ رکھنے دیتے۔لڑکیوں کی طرح گھر میں رکھ کر میری پرورش کی۔میں نے فارسی زبان سیکھی اور مجوسی مذہب کے متعلق بڑی محنت سے کافی معلومات حاصل کیں۔یہاں تک کہ آتش کدہ کا مستقل خادم بن گیا جس کا کام اس کی آگ کو ہمہ وقت روشن رکھنا اور کسی لحظہ بھی بجھنے نہ دینا تھا۔میرے باپ کی بہت بڑی جاگیر تھی۔ایک روز وہ اپنی عمارت کی تعمیر کے کام میں مصروف تھے۔مجھے کہا کہ آج میں اس عمارت کی مصروفیت کے باعث زمینوں پر نہیں جاسکتا۔تم جا کر کام دیکھ آؤ مگر زیادہ دیر نہ کرنا کہ مجھے جاگیر سے زیادہ تمہاری فکر ہو جائے۔وہاں جو کام وہ کروانا چاہتے تھے اس کے متعلق مجھے ہدایات دیں۔میں گھر سے زمینوں پر جانے کے ارادے سے نکلا، راستہ میں عیسائیوں کے گر جا کے پاس سے گزرا تو ان کی آوازیں سنیں وہ دعا ومناجات کر رہے تھے۔چونکہ والد نے مجھے گھر میں ایک طرح سے قید ہی کر رکھا تھا اس لئے مجھے باہر کے لوگوں کے معاملات کا زیادہ علم نہیں تھا ، آواز سن کر اندر گیا کہ دیکھوں وہ کیا کر رہے ہیں۔ان کی عبادت کا طریق مجھے اچھا لگا۔میرا میلان ادھر ہو گیا ، اور ان کے بارے میں میری دلچسپی بڑھ گئی۔میں نے دل میں کہا خدا کی قسم ! یہ مذہب ہمارے آتش پرست دین سے کہیں بہتر ہے۔واللہ! میں ان سے جدا نہ ہوسکا۔یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔نہ تو میں زمینوں میں جاسکا اور نہ ہی گھر واپس لوٹا۔ادھر میرے والد کو میرے دیر تک گھر نہ پہنچنے سے پریشانی لاحق ہوئی اور انہوں نے میری تلاش میں لوگوں کو بھیجا۔دین کا شوق نصرانی مذہب مجھے پسند آیا میں نے مسیحیوں سے پوچھا کہ اس دین کا مرکز کہاں ہے،