سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 511
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے کہا ملک شام میں۔511 حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ادھر میرے والد تمام کاموں سے بیزار مسلسل میری تلاش میں تھے۔میرے واپس آجانے پر انہوں نے مجھے کہا بیٹے تم کہاں چلے گئے تھے؟ میں نے تمہیں جلد لوٹنے کی تاکید نہیں کی تھی ؟ میں نے کہا پیارے ابا ! میں ایک گرجے کے پاس سے گزرا جس میں کچھ لوگ عبادت کر رہے تھے۔اسے دیکھ کر مجھے ان کا مذہب بہت پسند آیا۔میں شام تک وہیں رکا رہا۔مجھے لگتا ہے کہ ان کا دین ہمارے دین سے کہیں بہتر ہے۔میرے والد بولے بیٹے ! اس دین میں کوئی خیر و بھلائی نہیں۔تمھارا اپنادین اور تمھارے آبا ؤ اجداد کا دین اس سے کہیں بہتر ہے۔میں نے کہا خدا کی قسم ! ہرگز نہیں، وہ دین ہمارے دین سے بہر حال بہتر ہے۔تب ابا نے مجھے بہت ڈرایا۔میرے پاؤں میں زنجیریں ڈال دیں۔مجھے گھر میں قید کر دیا۔سفرشام قید کے دوران نصرانیوں نے مجھ سے رابطہ کیا میں نے انہیں پیغام بھجوایا کہ جب تمہارے پاس شام سے عیسائی تاجروں کا کوئی قافلہ آئے تو مجھے اس کی اطلاع کرنا۔میں نے انہیں بتا دیا تھا کہ میں ان کا مذہب درست سمجھتا ہوں اور ان سے درخواست کی کہ مجھے ملک شام جانے والے کسی شخص کا پتہ دیں۔اس کے بعد ان کے پاس شام کے عیسائی تاجروں کا ایک وفد آیا تو انہوں نے مجھے اس کی اطلاع کی۔میں نے کہا جب یہ قافلہ اپنے تجارتی کام ختم کر کے واپس اپنے ملک جانے لگے تو مجھے دوبارہ اطلاع کرنا۔واپسی کے وقت انہوں نے پھر مجھے اطلاع کی۔میں نے اپنے پاؤں سے زنجیریں اتار پھینکیں اور ان کے ساتھ شریک سفر ہوکر ملک شام جا پہنچا۔دوسری روایت میں ملک شام تک پہنچنے کی بعض اور تفصیلات حضرت سلمان کی زبانی اس طرح ہیں کہ ہمارا تعلق مجوسی مذہب سے تھا۔میری بستی کے لوگ سیاہ وسفید گھوڑے کی پوجا کرتے تھے جس کی کچھ حقیقت نہ تھی۔اہل جزیرہ کا ایک عیسائی جب ہمارے علاقہ سے گزرتا تو ہمارا مہمان ٹھہرتا تھا۔اس سے راہ و رسم تھی۔رفتہ رفتہ اس نے ہمارے علاقہ میں اپنا گر جا بھی بنالیا۔میں اس زمانہ میں فارسی لکھنا پڑھنا سیکھ رہا تھا۔ایک اور لڑکا بھی میرے ساتھ پڑھتا تھا ایک دن وہ روتا ہوا آیا اور یہ بتایا