سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 509
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نام و نسب 509 حضرت سلمان فارسی حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ہے کے آزاد کردہ غلام حضرت سلمان فارسی ملک ایران کے شہر رامہرمز یا اصفہان کے باشندے تھے۔وہ آب الملک کی نسل سے تھے۔نسب نامہ یہ ہے ، مابہ بن بوذ خشان بن مورسلان بن بہبوذان بن فیروز بن سھرک۔اسلام سے پہلے ایران کے مجوسی اور آگ پرست مذہب سے تعلق تھا، نیک فطرت اور طبیعت کی از لی سعادت انہیں تلاش حق کے طویل سفر کے بعد بالآخر رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں لے آئی۔اس دوران انہوں نے کئی ملکوں کی خاک چھانی ،کئی راہبوں اور نصرانی رہنماؤں کی صحبت میں رہے۔بعض یہودی مالکوں کے پاس غلام رہ کر قیام کیا۔آخرمدینہ پہنچ کر تحقیق حق کے بعد اسلام قبول کرنے کی توفیق پائی۔ان سے جب نسب کے بارہ میں پوچھا جاتا تو کیا خوبصورت جواب دیتے کہ میں اسلام کا بیٹا سلمان ہوں۔“ اور اس میں کیا شک ہے کہ وہ خدا اور اس کے دین کی خاطر اپنے وطن اور آباؤ اجداد کو چھوڑ کر ہمیشہ کیلئے اسلام کے کامل فرمانبردار بن گئے تھے۔تبھی تو رسول کریم اللہ نے فرمایا " سَلِمَانُ مِنَّا اَهْلَ الْبَيتِ کہ سلمان ہمارے اہل بیت سے ہے۔کتنا خوش قسمت تھا سلمان جس نے عجمی ہو کر رسول عربی سے اطاعت و وفا کا ایسا ناطہ جوڑا کہ آپ کے روحانی اہل بیت میں شامل ہو گیا۔تبھی تو اصحاب رسول انہیں ” سلمان الخیر کے لقب سے یاد کرتے تھے گویا ان کا وجود خیر و بھلائی کا مجسمہ تھا۔(1) سورۃ جمعہ کے نزول کے موقع پر جب رسول کریم ﷺ سے سوال ہوا کہ وَآخَرِينَ مِنْهُمُ (الجمعہ (4) سے دوسرا کونسا گر وہ مراد ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے دوبارہ مبعوث ہو کر تعلیم و تزکیہ فرمائیں گے۔آپ نے اسی اسلام کے بیٹے حضرت سلمان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا تھا " لَو كَانَ الإِيمَانُ عِندَ الثَّرَيَّا لَنَا لَهُ رَجُلٌ أو قَالَ رِجَالٌ مِنْ هو لاء (2) که اگر ایمان شریاستارے کی بلندی پر بھی اٹھ گیا تو سلمان کی قوم سے ایک مرد یا کچھ لوگ اسے واپس زمین پر اتار لائیں گے۔“