سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 478
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 478 حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ پورے خاندان کے لئے یہودی ساہوکاروں کے قرض کا بوجھ تھا۔حضرت جابر بیان کرتے تھے کہ غزوہ احد کے بعد کھجور کے باغات پر جو پہلا پھل آیا۔میری خواہش تھی کہ خواہ باغ کا سارا پھل بھی دینا پڑ ے اور قرض کا بوجھ اتر جائے تو خوش نصیبی ہوگی۔چنانچہ میں نے یہود کو یہ پیش کش بھی کر دی کہ باغ کا سارا پھل لے لو اور قرض سے دستبردار ہو جاؤ مگر یہودیوں کی نظریں تو باغ پر تھیں کہ وہ قرض کو سود در سود بڑھا کر کسی طرح باغ قبضہ میں کر لیں۔چنانچہ حضرت جابر انحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہودی قرض خواہوں کا تقاضا ہے کہ میں ان کا سارا قرض انہیں ادا کروں۔آپ ان قرض خواہوں کے پاس میری سفارش کر دیں کہ وہ قسط وار کچھ اس سال اور کچھ ا گلے سال مجھ سے یہ قرض لے لیں اور یوں یہ قرض ادا ہوتا چلا جائے۔آنحضرت ﷺ نے ان قرض خواہوں کو بلا کر حضرت جابر کی یہ سفارش کی کہ کچھ قرض اس سال لے لو کچھ اگلے سال لے لینا لیکن یہودی اس پر راضی نہ ہوئے۔وہ سارا قرض یکمشت لینے پر مصر تھے، چنانچہ آنحضرت نے جب یہ دیکھا کہ کوئی صورت کارگر نہیں ہورہی تو آپ نے حضرت جابر سے فرمایا اچھا میں خود تمہارے باغ میں آؤں گا۔حضور کی منشاء یہ معلوم ہوتی تھی کہ حالات کا جائزہ لے کر دعا کریں گے۔چنانچہ حضرت جابر سے ہفتہ کا دن مقرر ہوا اور فرمایا کہ دن چڑھنے کے بعد میں خود تمہارے باغ میں آجاؤں گا۔مقررہ وقت پر آنحضرت باغ میں تشریف لائے۔حضرت جابر کہتے ہیں کہ میں نے پہلے سے تیاری کر رکھی تھی۔خوب مزے لے لے کر وہ یہ واقعہ سنایا کرتے تھے کہ کس طرح آنحضرت ﷺ ان کے باغ میں تشریف لائے۔آتے ہی آپ نے وضو کر کے دو نفل نماز ادا کی۔اور دراصل یہی وہ مقصد تھا جس کے لئے حضور تشریف لائے تھے آپ نے اپنے دونوں رفقا حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کو بھی اپنے اس پروگرام سے مطلع فرما دیا تھا کیونکہ آنحضرت ﷺ کی آمد سے کچھ دیر کے بعد حضرت ابوبکر تشریف لے رض آئے تو انہوں نے بھی آتے ہی وضو کر کے دورکعت نماز پڑھ کر دعائیں کیں۔ان کے بعد حضرت عمرؓ تشریف لائے اور انہوں نے بھی ویسا ہی کیا جو آنحضرت ﷺ اور حضرت ابو بکر نے کیا تھا اور دورکعت نماز پڑھ کر سایہ دار جگہ میں ستانے کے لئے بیٹھے تو تھوڑی دیر کے لئے حضور کی آنکھ لگ گئی جائز کہتے ہیں اس دوران میں نے ایک چھوٹا سا بکرا جو گھر پالا ہوا تھا ذبح کر کے آنحضرت ﷺ کے لئے کھانے