سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 477 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 477

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 477 حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ حضرت عبد اللہ کی اولاد میں حضرت جابر کے علاوہ نو بیٹیاں تھیں جن کی نگہداشت حضرت جابر کے ذمہ آئی۔بیٹیوں نے اپنے والد کی نعش اٹھانے کے لئے مدینہ سے اونٹ بھجوایا لیکن آنحضرت ﷺ نے حضرت جابر سے یہ فرمایا کہ جہاں عبداللہ کے ساتھی دیگر شہدائے احد کی تدفین ہوگی وہیں عبد اللہ دفن ہوں گے اور حضرت جابر نے سرتسلیم خم کر دیا (4) حضرت عبداللہ کی شہادت کے بعد یتیم بہنوں کے واحد کفیل جابڑ تھے۔چنانچہ حضرت عبداللہ کی اولاد کے ساتھ ہمیشہ آنحضرت ﷺ کا ایک عجیب محبت اور شفقت بھرا تعلق رہا۔خاص طور پر جواں سال حضرت جابر رسول اللہ علیہ کی شفقتوں کے مورد ٹھہرے۔(5) رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر جائز کو تسلی اور دلاسہ دیا۔جابر کے چہرے پر آپ نے یاس اور فکر کے آثار دیکھے تو کتنی محبت سے فرمانے لگے جاڑا کیا وجہ ہے مغموم نظر آتے ہو ؟ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے والد احد میں شہید ہو گئے۔پیچھے عیالداری اور قرض ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہیں وہ خوشخبری سناؤں جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ کو عطا کی۔انہوں نے کہا ضرور اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی سے بغیر حجاب کے کلام نہیں فرمایا مگر تمہارے باپ کو زندہ کر کے آمنے سامنے کلام کیا اور فرمایا اے میرے بندے مجھ سے جو چاہو خواہش کرو میں پوری کروں گا۔تمہارے باپ نے کہا کہ اے میرے رب مجھے زندہ کر کے واپس بھیج کہ تیری راہ میں پھر دوسری دفعہ شہید ہو جاؤں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” تمہاری یہ خواہش پوری نہیں ہوسکتی کیونکہ ہماری سنت کے خلاف ہے جو لوگ مر جائیں ان کے بارے میں فیصلہ گزر چکا ہے م لاَ يَرْجِعُونَ وہ دنیا کی طرف واپس نہیں لوٹائے جاتے (6) یہ سن کر حضرت جابڑ کو کس قدر سکینت اور طمانیت عطا ہوئی ہوگی اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔بلکہ ان کے پورے خاندان اور شہید کی بینیم اولاد کیلئے یہ بہت بڑی تسلی تھی۔ادائیگی قرض میں رسول اللہ اللہ کی کوشش اور دعا انهم اس کے بعد آنحضرت ﷺ کا حضرت جابر کے ساتھ شفقتوں بھرے سلوک کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ نہایت حیرت انگیز اور عجیب لطف وکرم کا ایک سلسلہ ہے۔پہلی بڑی پریشانی حضرت جابڑ کے