سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 425
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 425 حضرت معاذ بن جبل انصاری رضی اللہ عنہ صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمر ، ابو قتادہ ، حضرت انس بن مالک، حضرت ابوامامہ ، حضرت ابولیلی انصاری ہیں۔ڈیڑھ سو سے زائد احادیث آپ سے مروی ہیں۔اس طرح کئی تا بعین بھی حضرت معادؓ سے روایت کرتے ہیں۔(20) حضرت معاذ کی شخصیت بہت متاثر کن تھی اور بڑے وجیہ انسان تھے اپنے حلقہ درس میں علوم کے دریا بہایا کرتے تھے اور لوگ آپ کی راہنمائی کے متلاشی ہوا کرتے تھے۔ابن حوشب ایک ایسے خوبصورت نظارے کا ذکر کرتے ہیں کہ میں نے ملک شام کے شہر حمص کی ایک مسجد میں دیکھا کہ ایک مجلس لگی ہوئی ہے اور ایک حسین و جمیل شخص جس کے دانت دمک رہے ہیں درمیان میں بیٹھا ہے۔مجلس میں کچھ اور معمر لوگ بھی تھے لیکن تمام لوگوں کی توجہ اس جوان رعنا کی طرف تھی۔کوئی مسئلہ دریافت کرنا ہو یا رائے لینی ہو وہ اس سے رجوع کرتے۔میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ وہ معاذ بن جبل ہیں۔اسی طرح ابوا در لیس بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے دمشق کی مسجد میں ایک عجیب نظارہ دیکھا کہ ایک نوجوان حسین و جمیل چمکدار دانتوں والا حلقہ احباب سے گھرا ہوا ہے۔لوگوں کو کوئی الجھن پیش آتی یا سوال پیدا ہوتا تو وہ اس نوجوان سے راہنمائی لیتے اور اس کی رائے پوچھتے ، میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ بتایا گیا کہ یہ معاذ بن جبل ہیں۔اگلے روز میں خاص طور پر ان سے ملاقات کرنے کیلئے دو پہر سے قبل ہی مسجد چلا گیا میں نے دیکھا حضرت معادا مجھ سے بھی پہلے وہاں موجود ، اور نماز ادا کر رہے تھے۔انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے کہا کہ ”خدا کی قسم میں آپ سے محبت کرتا ہوں“ انہوں نے کہا کہ سوچ لو اللہ کی قسم ! کیا تم واقعی مجھ سے محبت کرتے ہو، میں نے کہا ہاں ! خدا کی قسم ! میں آپ سے محبت کرتا ہوں انہوں نے دوبارہ اور سہ بارہ پوچھا۔میں نے پھر یہی عرض کیا کہ اللہ کی قسم آپ سے محبت کرتا ہوں انہوں نے کہا کہ پھر تمہیں خوشخبری ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ان پر میری رحمت نازل ہوگی اور وہ میری محبت اور میری رحمت کے مستحق ہو گئے۔“ (21)