سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 361 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 361

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 361 حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ہیں۔اس پر انہوں نے کچھ حوصلہ پا کر جواب دیا ” آپ بالکل سچ کہتی ہیں میری عمر کی قسم حق یہ ہے کہ حضرت سعد بن معاذ کی موت کے بعد مجھے کسی کی موت پر رونا تو نہیں چاہیے۔کیونکہ رسول کریم نے ان کیلئے جو فر مایا وہ کیا ہی خوب تھا کہ سعد بن معاذ کی وفات پر خدا کا عرش بھی جھوم اٹھا ہے۔“ (18) حضرت اسماء بن یزید سے روایت ہے کہ جب حضرت سعد بن معاذ کا جنازہ اٹھا تو ان کی والدہ کی چیخ نکل گئی رسول کریم ﷺ نے فرمایا ( میں جو بات بتانے والا ہوں اس سے ) ” تمہارے آنسورک جائیں گے اور تمہاراغم جاتا رہے گا۔تمہارا بیٹا وہ پہلا شخص ہے جس کی اپنے حضور حاضری پر خدا بھی خوش ہو گیا اور عرش بھی اس (پاک روح کی آمد ) پر جھوم اٹھا۔“ دوسری روایت میں ہے کہ رحمان خدا کا عرش اللہ کے نیک بندے سعد کی وفات پر خوشی سے جھوم اٹھا تھا۔“ (19) رسول کریم مے سے حضرت جبرائیل نے پوچھا کہ آج رات آپ کی امت میں کسی نے سفر آخرت اختیار کیا جو آسمان کے لوگ بھی اس پر خوش ہوئے۔دوسری روایت میں ہے ”فرشتے سعد کی سعید روح کو پا کر خوش ہو گئے۔“ (20) حضرت سعد کی اللہ سے ملاقات کی محبت میں عرش جھوم اٹھا۔رسول اللہ ﷺہ سعد کی قبر میں اترے تو کچھ دیر اس میں ٹھہرے اور پہلے سبحان اللہ اور پھر الحمداللہ کہا۔پوچھنے پر فرمایا کہ " سعد پر قبر میں تنگی ہونے لگی تو میں نے اللہ سے دعا کی کہ وہ اس سے یہ حالت دور کر دے۔چنانچہ اسے کشادہ کر دیا گیا۔‘ (21) ایک شاعر نے اس موقع پر کیا خوب کہا وَمَا اهْتَزَّ عَرشُ اللَّهِ مِنْ مَوْتِ هَالِك سَمِعُنَابِهِ إِلَّا لِسَعْدِ أَبِي عَمْرو کہ کسی مرنے والے کی موت سے کبھی عرش کے جھوم اٹھنے کا نہیں سنا سوائے سعد ابی عمرو کی وفات کے۔(22) رسول اللہ اللہ کے دل پر کافی عرصہ تک اپنے اس وفا شعار ساتھی کا صدمہ تازہ رہا۔ہراہم