سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 362 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 362

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 362 حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کامیابی اور موڑ پر آپ سعد کو یاد کرتے رہے۔کئی سال بعد شاہ اکید رومہ نے رسول اللہ کی خدمت میں کچھ ریشمی جے بطور تحفہ بھجوائے۔رسول اللہ ﷺ نے زیب تن فرمائے۔صحابہ کرام نے بہت تعجب سے ان کو دیکھا اور تعریف کی۔رسول کریم نے فرمایا کہ تمہیں یہ جسے بہت اچھے لگ رہے ہیں؟ خدا کی قسم جنت میں سعد بن معاذ کے ریشمی رومال اس سے کہیں بہتر ہیں۔(23) حضرت سعد کی والدہ نے اپنے لخت جگر کی جدائی پر ان کے فضائل گنواتے ہوئے یوں اپنے غم کا بوجھ ہلکا کیا۔وَيلَ امِ سَعْدِ سَعْدًا بَرَاعَةً وَنَجُدًا بَعْدَ أَيَادٍ يَالَهُ وَمَجُدًا مُقَدَّماً سُدَّ بِهِ مَسَدًا اے ام سعد ! سعد کی جدائی پر افسوس ! جو ذہانت اور شجاعت کا پیکر تھا۔جو بہادری اور شرافت کا مجسمہ تھا، اس محسن کی بزرگی کے کیا کہنے جو سب خلاء پر کرنے والا سردار تھا۔حضرت عمر نے حضرت سعد بن معاذ کی والدہ کوروکنا چاہا کہ یہ ہیں نو حہ کی صورت نہ بن جائے تو نبی کریم نے فرمایا " اے عمر ! ٹھہر جاؤ۔ہر نوحہ گر جھوٹی ہوتی ہے، جب وہ اپنے مرنے والے کے فضائل مبالغہ سے گنواتی ہے۔مگر آج سعد کی والدہ نے اس کے بارے میں جو کہا یہ بالکل سچ ہے۔پھر ام سعد سے فرمایا ” بس اس سے زیادہ کچھ نہ کہنا۔خدا کی قسم ! جتنا مجھے علم ہے حضرت سعد بہت صاحب بصیرت مدبر انسان اور خدا کے حکموں کو خوب قائم کرنے والا تھا۔‘ (24) ایمانی پختگی ، شغف نماز و خوف محاسبه حضرت سعد کے ایک مختصر اور عاجزانہ بیان سے ان کے روحانی مقام پر خوب روشنی پڑتی ہے۔وہ کہا کرتے تھے کہ ” میں بے شک بہت کمزور ہوں مگر تین باتوں میں بہت پختہ ہوں۔اول یہ کہ رسول کریم سے جو کچھ میں نے سنا اسے حق یقین کرتا ہوں۔دوسرے میں اپنی کسی نماز میں بھی نماز کے علاوہ کوئی دوسرا خیال آنے نہیں دیتا۔یہاں تک کہ نماز مکمل کرلوں تیسرے کوئی جنازہ حاضر نہیں ہوتا مگر میں اپنے آپ کو اس کی جگہ (مردہ) خیال کر کے سوچتا ہوں کہ اس سے کیا پوچھا جائے گا اور وہ کیا جواب دے گا۔( گویا وہ سوال و جواب مجھے سے ہورہے ہیں ) (25)