سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 360 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 360

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 360 حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تو نبی کریم ﷺ نے منع فرمایا۔حضرت عمرؓ نے یہ دیکھ کر انا اللهِ وَإِنَّا إِلَيهِ رَاجِعُونَ پڑھا کہ ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔حضرت عائشہ فرماتی تھیں اس صدمہ کے موقع پر میں ابوبکر کے رونے کی آواز ، حضرت عمرؓ کے رونے کی آواز سے الگ پہچانتی تھی اور یہ سب (اصحاب رسول ) آپس میں بہت ہی محبت کرنے والے تھے حضرت سعد کا جنازہ اٹھا تو دنیا نے دیکھا کہ خدا کے رسول حضرت محمد مصطفی میں اپنے اس عزیز اور محبوب صحابی کے جنازہ کو خود کندھا دے کر گھر سے باہر لائے اور جنازہ کے جلوس کی قیادت فرمائی۔(15) بعض منافقوں نے اس موقع پر کہا کہ ہم نے سعد سے زیادہ ہلکا جنازہ کسی کا نہیں دیکھا۔یہ بنوقریظہ کے خلاف فیصلہ کرنے کی وجہ سے ہوگا۔اس پر رسول کریم ﷺ نے فرما یا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے فرشتے سعد کے جنازہ کو اٹھا رہے تھے۔“ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ سعد بن معاذ کی وفات پر ستر ہزار ایسے فرشتے پہلی دفعہ زمین پر اترے جنہوں نے اس سے پہلے زمین پر قدم نہیں رکھا تھا۔‘ (16) حضرت عائشہ بیان فرماتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے دونوں قریبی ساتھیوں حضرت ابوبکر اور عمر کی وفات کے بعد مسلمانوں کیلئے سب سے بڑا صدمہ حضرت سعد بن معاذ کی وفات کا تھا۔حضرت سعد نے عین عالم جوانی میں 37 برس کی عمر میں جام شہادت نوش کیا اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔(17) سعد کا مقام و مرتبہ حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ ایک سفر حج یا عمرے سے واپسی پر ذوالحلیفہ میں حضرت اسید بن حضیر انصاری کو ان کی بیوی کی ناگہانی قتل کی اطلاع ملی تو وہ مارے غم کے منہ پر کپڑا لے کر رونے لگے میں نے ان سے کہا کہ اللہ آپ کو معاف فرمائے آپ رسول اللہ ﷺ کے قدیمی صحابی ہیں اور کئی نیک کاموں میں سبقت لے جانے والے ہیں۔یہ آپ کو کیا ہوا کہ ایک عورت کی جدائی پر اتنا روتے