سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 310
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 310 حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آنحضرت کے قدموں میں رہنے کا فیصلہ کیا اور آنحضرت معہ کے پاس رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت پر سرفراز فرمایا۔زیڈ نے آپ کی تصدیق کی۔آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور ابتدائی زمانہ میں آپ کے ساتھ نمازیں پڑھتے رہے۔وہ پہلے مسلمان مرد اور سب سے پہلے نماز پڑھنے والے ہیں۔(6) حضرت زیڈ کے قبول اسلام کے بارہ میں امام زھری کی یہ روایت ہے کہ زیڈ سے پہلے کسی اور کا قبول اسلام ہمارے علم میں نہیں۔(7) اس کی تائید زید بن حارثہ کی اپنی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے جس کا تعلق آغاز وحی اور وضواور نماز سکھانے کے طریق سے ہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس جبرئیل اول جو وحی لے کر آئے اس میں نبی کریم علیہ کو وضو اور نماز کا طریق سکھایا گیا۔(8) حضرت حمزہ کے قبول اسلام کے بعد آنحضرت ﷺ نے زید اور اپنے چا حمزہ میں مواخات قائم فرمائی اور انہیں بھائی بھائی بنادیا۔اللہ اللہ ایک غلام کی اتنی قدردانی مگر زید اب غلام تو نہیں تھے وہ رسول اللہ کے منہ بولے بیٹے بن چکے تھے۔اگر چہ بعد میں قرآنی حکم اُدْعُوهُمْ لِآبَائِهِمُ (الاحزاب : 6) کے مطابق زید بن محمد عل اللہ کو دوبارہ زید بن حارثہ کہا جانے لگا۔(9) رسول کریم ﷺ کی محبت اور انتظام شادی آنحضرت نے زید سے محبت واخوت دینی کا رشتہ خوب نبھایا اور ہمیشہ اس محبت والفت کا اظہار فرماتے رہے۔جب نبی کریم نے اپنی چا زاد بہن اور قبیلہ قریش کی معزز خاتون حضرت زینب بنت جحش کا رشتہ حضرت زیڈ سے طے فرمایا اور اس طرح خاندانی تفاخر اور آزاد و غلام کی تمیز اور تفریق کی بدرسم عملاً اپنے پاؤں تلے روند ڈالی۔یہ اور بات ہے کہ مزاج اور طبائع کی ناموافقت کے باعث یہ رشتہ دیر پا ثابت نہ ہوا اور بالاخر حضرت زید کو طلاق دینی پڑی مگر جیسا کہ اس رشتہ کا قائم ہونا بد رسوم مٹانے کے لحاظ سے تاریخ اسلام کا ایک شاندار واقعہ اور سیرت رسول گا ایک خوبصورت نمونہ ہے۔پھر فتح مکہ کے موقع پر حضرت حمزہ کی جواں سال بیٹی حضور ﷺ کی خدمت میں پیش ہوئی تو ان کی کفالت کا