سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 311
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 311 حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سوال پیدا ہوا حضرت علی اور جعفر نے اپنی چچا زاد بہن کی کفالت پر اپنا حق جتلایا۔حضرت زید نے عرض کیا یہ میرے دینی بھائی حمزہ کی بیٹی ہے آنحضرت نے اگر چہ اس بچی کو حضرت جعفر کے اہل خانہ کے سپر د کیا لیکن اس موقع پر حضرت زیڈ سے اپنے دلی تعلق اور لگاؤ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا اے زیڈ واقعی تو ہمارا دینی بھائی ہے تیرے ساتھ ایک محبت کا تعلق ہے۔(10) اور امر واقعہ بھی یہی ہے حضرت زید در اصل حضور کے گھر کے ایک فرد تھے۔چنانچہ حضور علیے نے زید کی حضرت زینب سے علیحدگی کے بعد اپنی خادمہ ام ایمن سے ان کی شادی کا انتظام کیا۔ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ ام ایمن سے شادی کرنے والے کو میں جنت کی بشارت دیتا ہوں۔یہ بشارت بھی حضرت زید کے حصے میں آئی۔حضرت ام ایمن کے بطن سے حضرت زید کے بیٹے اسامہ پیدا ہوئے اور انہی کی کنیت کی نسبت آپ ابو اسامہ بھی کہلاتے تھے۔آنحضرت عالیہ کو حضرت زید اور ان کے خاندان سے جو محبت تھی۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے جو حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں ایک قیافہ شناس آیا۔اسامہ اور زیڈ دونوں باپ بیٹا لیٹے ہوئے تھے۔اس قیافہ شناس کی نظر جو ان دونوں کے پاؤں پر پڑی تو کہنے لگا یہ پاؤں ایک دوسرے میں سے ہیں۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی کریم ﷺے اس بات سے بہت ہی خوش ہوئے اور یہ بات آپ کو بہت ہی پسند آئی۔بڑی خوشی سے مجھے یہ بات بتاتے تھے کہ اس طرح ایک قیافہ شناس نے زید اور اسامہ کے باپ بیٹا ہونے کی گواہی دی ہے۔(11) اسامہ حضور ﷺ کے گھر میں پلے بڑھے حضور ﷺ اس سے بہت محبت کا سلوک فرماتے تھے بسا اوقات اپنی گود میں ایک طرف حضرت امام حسین کو اور دوسری طرف حضرت اسامہ کو بٹھا لیتے اور خدا تعالیٰ کے حضور دعا کرتے اے اللہ میں ان سے محبت کرتا ہوں تو ابھی ان سے محبت فرما۔رسول اللہ ﷺ کی حضرت زینب سے شادی حضرت زیڈ اور زینب کی جدائی میں بھی اللہ تعالیٰ کی گہری حکمتیں اور مصلحتیں پنہاں تھیں۔دراصل یہ ایک المی تقدیر تھی۔حضرت زینب رسول اللہ کے عقد میں آئیں اور متبنی کی رسم کا حقیقی طور پر خاتمہ ہوا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرَازَ وَجُنُكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ