سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 216
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 216 حضرت عباس بن مطلب رضی اللہ عنہ کی بشارت دی انہوں نے حضرت عباس کو جا کر بتایا تو وہ نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضور نے ان کی پیشانی کا بوسہ لیا اپنے دائیں بٹھایا اور فرمایا ” یہ میرے چچا ہیں جو چاہے وہ اپنا ایسا چچا مقابلہ پر لائے۔“ حضرت عباس نے جھینپتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ ! حضور نے فرمایا ”میں یہ کیوں نہ کہوں جبکہ آپ میرے چا اور میرے والد کی نشانی ہیں اور چچا بھی والد ہوتا ہے پھر محاصرہ شعب ابی طالب کے دوران ہی ام الفضل کے ہاں جو بیٹا پیدا ہوا، اس کا نام آپ نے عبد اللہ رکھا اور خودا سے گڑتی دی۔(6) ابوطالب کی وفات کے بعد مدینہ ہجرت سے قبل رسول اللہ ﷺ کا قابل اعتماد ٹھکا نہ حضرت عباس کا گھر تھا جہاں ذوالحجہ 12ھ میں انصار کے نمائندوں نے آکر ملاقات کی اور حضرت عباس کے مشورہ سے ہی حج کے بعد منی کی رات ایک پہاڑی گھاٹی میں مخفی اور محدود ملاقات طے ہوئی۔عقبہ میں بارہ انصار کی اس پہلی بیعت سے قبل رسول اللہ کے خیر خواہ اور نمائندہ کے طور پر حضرت عباس ہی شریک ہوئے۔انہوں نے انصار سے کھل کر یہ بات کی کہ آپ لوگ رسول کریم کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دے رہے ہیں، اور محمد ہم میں سب سے معزز اور قابل احترام ہیں۔قبیلہ ان کی مکمل حفاظت کرتا ہے۔اب تمہارا ان کو مدینہ لے کر جانا پورے عرب سے کھلم کھلا اعلان جنگ ہوگا۔کیا تم اس کی طاقت رکھتے ہو۔جب انصار مدینہ نے اپنے دلی جذبات کا مخلصانہ اظہار کیا اور رسول اللہ کی اطاعت و وفا اور حفاظت کا یقین دلایا تو نبی کریم نے کچھ وعظ کرنے کے بعد ان کی بیعت لی۔اس بیعت میں بھی حضرت عباس نہ صرف شامل ہوئے بلکہ ابن سعد کی روایت ہے کہ انہوں نے اس تاریخی بیعت کے وقت رسول اللہ کا ہاتھ میں ہاتھ دے کر اپنا عہد بیعت از سرنو تازہ کیا۔بعد کے زمانہ میں جب انصار مدینہ میں یہ سوال اٹھا کہ اس موقع پر سب سے پہلے کس نے بیعت کی تھی؟ تو سب کی رائے ہوئی کہ حضرت عباس سے پوچھا جائے انہوں نے اپنے ساتھ جن انصار کے حق میں بالترتیب رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ دینے کی گواہی دی وہ حضرت برا، حضرت ابوالہیم اور حضرت اسعد تھے۔(7) اگلے سال حج کے موقع پر پھر ستر انصار جب اسی گھاٹی میں اکٹھے ہوئے اور بیعت عقبہ ثانیہ