سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 215 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 215

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 215 حضرت عباس بن مطلب رضی اللہ عنہ خدشات تھے اور وہ ان کی اعلانیہ مخالفت پسند نہیں کرتے تھے اس لئے انہوں نے اپنا اسلام مخفی رکھا۔(2) ام الفضل مکہ میں حضرت خدیجہ کے معا بعد اسلام لائی تھیں۔رسول اللہ ﷺ ان کے گھر تشریف لے جاتے اور آرام فرماتے تھے۔(3) ابتدائی زمانہ میں حضرت عباس کے قبول اسلام کیلئے حضرت عمر کی کوششوں کا بھی ذکر ملتا ہے جو بالآخر کامیاب ہوئیں۔حضرت عمران سے اپنی دوستی کی وجہ سے کہتے تھے کہ آپ مسلمان ہو جائیں آپ کا قبول اسلام مجھے اپنے باپ خطاب کے اسلام سے بھی زیادہ محبوب ہے۔“ چنانچہ جب حضرت عباس نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ ﷺ بھی بہت خوش ہوئے۔آپ کے آزاد کردہ غلام ابورافع کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ علیہ کو حضرت عباس کے قبول اسلام کی خبر دی جس پر خوش ہوکر رسول کریم ﷺ نے انہیں آزاد کر دیا۔(4) پس رسول اللہ ﷺ کی ہجرت مدینہ کے بعد مکہ میں حضرت عباس کا قیام رسول کریم ﷺ کی اجازت خاص کے ماتحت تھا۔چنانچہ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ہجرت کے بعد مکہ میں کوئی خبر رسول اللہ ﷺ پر منی نہیں رہتی تھی۔حضرت عباس سب حالات آپ کو لکھ کر بھجواتے تھے۔نیز ان کی موجودگی سے مکہ میں پیچھے رہ جانے والے مسلمانوں کو مدد اور تقویت حاصل ہوتی تھی۔حضرت عباس رسول اللہ ﷺ سے مدینہ آنے کی اجازت طلب کرتے رہتے تھے۔مگر رسول کریم ﷺ نے آپ کو یہی لکھا کہ ” آپ کا وہاں ٹھہر نا عمدہ جہاد ہے“ چنانچہ وہ رسول اللہ کے ارشاد پر مکہ ٹھہرے رہے۔(5) رسول اللہ ﷺ کی ہجرت مدینہ سے قبل حضرت عباس کے قبول اسلام کی روایت دیگر تاریخی شواہد کی روشنی میں زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی ہے۔چنانچہ شعب ابی طالب کے زمانہ میں حضرت عباس نے رسول کریم ﷺ کا کھل کر ساتھ دیا اور آپ کے ساتھ تین سال تک وہاں محصور رہے جبکہ بنو ہاشم میں سے بعض دیگر ابولہب وغیرہ کھل کر مخالفت کرتے رہے۔شعب ابی طالب کے دوران رسول کریم ﷺ نے اپنی چچی ام الفضل کو بیٹے