سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 155
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 155 حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آپ امیر آدمی ہو جنت میں گھٹنوں کے بل داخل ہو گے اسلئے اپنا مال خدا کو قرض دو۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ سارا مال ؟ فرمایا ہاں۔حضرت عبدالرحمن بن عوف اس پر آمادہ ہو گئے پھر رسول کریم ﷺ نے فرمایا مجھے جبریل نے ابھی خبر دی ہے کہ عبد الرحمن کو کہہ دو کہ مہمان کی مہمان نوازی کرے ہمسکین کو کھانا کھلائے ، سائل کو دے اور رشتہ داروں سے اس کا آغاز کرے تو مال پاک ہو جائے گا۔سبحان اللہ ! کیا بے نفسی ہے اور دنیا سے بے رغبتی کا کیا عالم ہے۔یہ وہ انقلاب تھا جو نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ میں پیدا کر دیا تھا۔کہ مال کی کثرت نے ان کے دلوں میں مال کی محبت کی بجائے مال عطا کرنے والے کی محبت پیدا کر دی۔حضرت عبدالرحمان بن عوف نے ہمیشہ قومی اور مذہبی ضروریات کے لئے گراں قدر خدمات انجام دیں۔سورہ تو بہ نازل ہوئی اس میں صدقہ و خیرات کی ترغیب کا مضمون بھی ہے حضرت عبد الرحمن بن عوف نے اپنا نصف مال کچھ چار ہزار کے قریب رقم پیش کر دی۔پھر دو دفعہ چالیس چالیس ہزار دینار پیش کئے۔اسی طرح جہاد کے لئے ضرورت پیش آئی تو پانچصد گھوڑے اور پندرہ سو اونٹ پیش کر دئیے۔(13) عام صدقہ و خیرات کا تو یہ عالم تھا کہ ایک ایک دن میں تمہیں تمہیں غلام آزاد کر دیا کرتے تھے۔ایک روایت کے مطابق انداز اتمیں ہزار غلام آزاد کئے۔ان تمام خدمتوں کے باوجود کوئی فخر کا شائبہ تھا نہ غرور کا خیال بلکہ عجز وانکسار کا یہ حال تھا کہ ایک دفعہ ام المومنین حضرت ام سلمہ سے یہ عرض کیا کہ مجھے خوف ہے کہ کثرتِ مال مجھے ہلاک نہ کر دے۔انہوں نے فرمایا کہ راہ خدا میں مال خرچ کیا کرو۔حضرت عبدالرحمان بن عوف نے جیسے یہ نصیحت پلے باندھ لی تھی۔وفات کے وقت بھی پچاس ہزار دینار اور ایک ہزار گھوڑے خدا کی راہ میں وقف کر دئیے۔بدر میں جو صحابہ شریک ہوئے تھے بوقت وفات ان کے حق میں یہ وصیت فرمائی کہ اب تک جتنے بدری صحابہ زندہ ہیں میرے ترکے میں سے ہر ایک کو چار صد دینار عطا کئے جائیں۔اس وقت سو بدری صحابہ نموجود تھے۔چنانچہ ان سب نے بشمول حضرت عثمان کی اس وصیت سے خوب فائدہ اُٹھایا۔امہات المومنین کے لئے بوقت وفات ایک باغ کی وصیت کی جو چار لاکھ درہم میں فروخت