سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 156 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 156

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 156 حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ہوا۔حضرت عائشہ معبد الرحمان بن عوف کے بیٹے کو فرمایا کرتی تھیں کہ رسول اللہ کو اپنے بعد ازواج کے معاملات کی فکر رہتی تھی اللہ تعالیٰ تمہارے باپ عبدالرحمان کو جنت کے چشمہ سے سیراب کرے جنہوں نے ازواج رسول کیلئے اس خدمت کی توفیق پائی۔(14) الغرض حضرت عبدالرحمن بن عوف کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت خوب عطا کیا اور آپ نے بھی دل کھول کر خدا کی راہ میں اپنا مال لٹا یا مگر مال میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ خدا نے ایسی برکت ڈالی کہ خود فرماتے تھے کہ مٹی میں ہاتھ ڈالتا ہوں تو سونا ہو جاتی ہے۔چنانچہ اس قدر فیاضی کے باوجود اپنے ورثاء کے لئے بہت مال چھوڑا۔چار بیویوں کو ترکہ کے آٹھویں حصے کے طور پر اسی ، اسی ہزار دینار ملے۔مال میں سونے کی اتنی بڑی بڑی اینٹیں تھیں کہ کاٹ کاٹ کر تقسیم کی گئیں اور کاٹنے والوں کے ہاتھوں میں آبلے پڑ گئے۔جائیداد غیر منقولہ اور نقدی کے علاوہ ایک ہزار اونٹ ،سوگھوڑے اور تین سو بکریاں بھی ترکے میں چھوڑیں۔(15) یہ اس مخلص مہاجر کا ترکہ تھا جو راہ خدا میں خالی ہاتھ ملے سے مدینے ہجرت کر کے آ گیا تھا۔اور نصف مال و جائیداد کی پیش کش حضرت سعد بن ربیع نے کی تو کمال استغناء کے ساتھ قبول نہیں کی تھی اور خدا پر کامل تو کل کرتے ہوئے محنت کرنے کو ترجیح دی تھی۔پھر خدا نے بھی اس متوکل انسان کو ایسا نوازا کہ دولت کے انبار اس کے سامنے لگا دیئے۔حضرت عبدالرحمان بن عوف کے پاس کیمیا گری کا نسخہ تھانہ جادو کی کوئی ایسی انگوٹھی کہ جس چیز کے ساتھ لگاتے تھے وہ سونا بن جاتی تھی۔نہ ہی تجارت کا کوئی ایسا گر آپ کو ملا تھا کیونکہ محض دنیاوی تجارتیں ہرگز اتنے اموال عطا نہیں کر سکتیں۔اگر کوئی گر حضرت عبدالرحمن بن عوف نے سیکھا تھا تو وہ خدا سے تجارت کرنے کا گر تھا جہاں سات سو گنا سے بھی بڑھ کر منافع ملتا ہے اور اسی عرفان حاصل کرنے کے نتیجے میں آپ واقعی وہ پارس بن گئے تھے کہ جس چیز کے ساتھ وہ لگتا اسے سونا بنادیتا ہے۔یہ وہ کیمیا گری تھی جو آپ نے آنحضرت مے سے سیکھی تھی اور اس کیمیا گری میں یقیناً آپ کی دعاؤں مجاہدات اور عبادات کا بھی گہرا دخل تھا۔آپ نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ نمازیں ادا کیا کرتے تھے۔نماز ظہر سے قبل لمبی نفل نماز پڑھتے اذان کی آواز سن کر مسجد روانہ ہو جاتے۔نوافل سے خاص شغف تھا، رسول اللہ ﷺ سے آپ کی کئی روایات مروی ہیں۔حضرت عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ مسجد میں