سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 154 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 154

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 154 حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ قافلے سے کچھ پیچھے رہ گئے۔نماز فجر کا وقت ہو گیا۔نماز میں تاخیر کے اندیشے سے حضرت عبدالرحمان بن عوف نے نماز فجر شروع کروادی۔نبی کریم کے بعد میں تشریف لائے اور آپ نے حضرت عبد الرحمان بن عوف کی اقتداء میں نماز ادا کی۔(11) حضرت عبدالرحمان کو آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد اپنی عفت اور پاکدامنی کے باعث ایک اور اہم خدمت کی بھی توفیق ملی۔اور وہ تھی ازواج مطہرات کی خدمت و حفاظت۔رسول کریم نے فرمایا تھا کہ میرے بعد میری ازواج کی خدمت کی توفیق پانے والا بہت ہی صادق اور راستباز ہوگا۔حضرت عبدالرحمن بن عوف کو یہ خدمت کرنے کی توفیق ملی۔آپ سفر حج میں ازواج مطہرات کے ساتھ جاتے اور ان کے لئے سواری اور پردے کا اہتمام کرتے۔(12) مالی قربانی حضرت عبدالرحمن بن عوف بڑے مالدار تاجر تھے اور تجارت میں ایسی برکت پڑی کہ آپ عظیم الشان دولت کے مالک بنے۔مگر کبھی حرص اور بخل کا خیال تک نہ آیا۔ابوالھیاج راوی ہیں کہ میں نے ایک شخص کو طواف بیت اللہ میں یہ دعا کرتے سنا۔اللَّهُمَّ قِنِي شُحَّ نَفْسِی۔اے اللہ مجھے اپنے نفس کے بخل سے محفوظ رکھنا۔میں نے پوچھا یہ کون ہے تو پتہ چلا کہ وہ عبدالرحمن بن عوف تھے۔یہ دعا خوب مقبول ٹھہری۔ایک دفعہ عبدالرحمن بن عوف کا تجارتی قافلہ مدینے آیا تو اس میں سات سو اونٹوں پر صرف گیہوں ، آٹا اور دوسری اشیاء لدی ہوئی تھیں۔مدینے میں اتنے بڑے تجارتی قافلے کے چرچے ہورہے تھے کہ حضرت عائشہ تک بھی خبر پہنچی۔انہوں نے حضرت عبدالرحمان بن عوف کے فضائل بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے رسول خدا ﷺ سے سنا ہے کہ عبدالرحمان جنتی ہیں اور رینگتے ہوئے جنت میں جائیں گے۔حضرت عبدالرحمن بن عوف کو اطلاع ہوئی تو دوڑتے ہوئے ام المؤمنین حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ میں آپ کو گواہ کر کے یہ لدا ہوا قافلہ اونٹ اور کجاوے سمیت میں خدا کی راہ میں وقف کرتا ہوں۔اس کا پس منظر یہ تھا کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف سے ایک دفعہ فرمایا