سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 198
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا علیہ السلام ۱۹۸ کالڑکا تھا کس کام آیا ؟ اصل بات یہ ہے کہ انسان جو اس قدرمرادیں مد نظر رکھتا ہے اگر اس کی حالت خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہو تو خدا اس کی مرادوں کو خود پوری کر دیتا ہے۔اور جو کام مرضی الہی کے موافق نہ ہوں ان میں انسان کو چاہیے کہ خود خدا تعالیٰ کے ساتھ موافقت کرے۔تحریری تعزیت جس طرح پر آپ کے معمولات میں یہ بات داخل تھی کہ آپ خطوط کے ذریعہ عیادت کرلیا کرتے تھے۔اسی طرح سے عموماً خطوط کے ذریعہ تعزیت بھی فرمایا کرتے تھے۔تعزیت ناموں میں آپ کا طریق مسنون یہی تھا کہ دنیا کی بے ثباتی کا نقش دل پر بٹھانے کے لئے کوشش فرماتے اور ایسا رنگ فرماتے جس سے اس صدمہ کی آگ ٹھنڈی ہو جائے اور قلب پر ایک سکینت اور تسلی کی روح کا نزول ہو۔اس کے لئے کبھی خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں کو پیش کرتے۔کبھی اس کی غیرت ذاتی کا پُر شوکت بیان فرماتے جس کو سن کر انسان غیر اللہ کی محبت سے کانپ اٹھے اور اپنے اندر سے ان تمام بتوں کو نکال کر پھینک دے جو غیروں کی محبت کے اُس کے قلب میں رکھے ہوئے ہیں۔اور کبھی ان طریقوں کا بھی اظہار فرماتے جو عملی صورت میں اس غم اور حادثہ کی کوفت کو دور کرنے والے ہوں۔غرض آپ تحریری طور پر تعزیت فرماتے تھے۔ابتدا میں ایسے خطوط خود اپنے ہاتھ سے ہی لکھا کرتے تھے۔لیکن جب کثرت سے سلسلہ پھیل گیا اور آپ کی مصروفیت کا دامن وسیع ہو گیا تو اس قسم کے خطوط کے لئے کا تب ڈاک کو بھی حکم دے دیتے تھے مگر اپنے مخلص احباب کے لئے اس وقت تک بھی یہی دستور تھا کہ اپنے ہاتھ سے خط تحریر فرمایا کرتے اور بعض دوستوں کے لئے آپ کا معمول تھا کہ رجسٹری کرا کر خط ہو یا پیکٹ کتاب و اشتہار بھیجا کرتے تھے۔ایسے پیکٹ خود اپنے ہاتھ سے بھی بنا لیتے۔ورنہ ان پر پتہ تو لازماً اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے۔میں ذیل میں چند تعزیت نامے آپ کے درج