سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 197
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۷ کے واسطے ثواب ہو۔آپ نے اپنی بیوی کی بہت خدمت کی ہے۔باوجود اس معذوری کے کہ آپ نابینا ہیں آپ نے خدمت کا حق ادا کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے پاس اس کا اجر ہے۔مرنا تو سب کے واسطے مقدر ہے۔آخر ایک نہ ایک دن سب کے ساتھ یہی حال ہونے والا ہے مگر غربت کے ساتھ بے شر ہو کر مسکینی اور عاجزی میں جولوگ مرتے ہیں ان کی پیشوائی کے واسطے گویا بہشت آگے آتا ہے۔قاضی غلام حسین صاحب کے بیٹے کی تعزیت جون ۱۹۰۵ء کے اوائل میں قاضی غلام حسین صاحب وٹرنری اسسٹنٹ ( جو آج کل حصار کے کیٹل فارم (Cattle Farm) میں سپرنٹنڈنٹ ہیں اس وقت بھی وہاں ہی تھے ) کا بچہ چند روز بیمار ہو کر فوت ہو گیا تھا۔چند روز ہی کی عمر اس نے پائی تھی۔وہ حاضر ہوئے۔آپ نے ان کو خطاب کر کے تعزیت فرمائی۔فرمایا۔جو بچہ مرجاتا ہے وہ فرط ہے۔انسان کو عاقبت کے لئے بھی کچھ ذخیرہ چاہیے۔میں لوگوں کی خواہش اولاد پر تعجب کیا کرتا ہوں۔کون جانتا ہے اولا د کیسی ہوگی۔اگر صالح ہو تو انسان کو کچھ فائدہ دے سکتی ہے اور پھر مستجاب الدعوات ہو تو عاقبت میں بھی فائدہ دے سکتی ہے۔اکثر لوگ تو سوچتے ہی نہیں کہ ان کو اولاد کی خواہش کیوں ہے، اور جو سوچتے ہیں وہ اپنی خواہش کو یہاں تک محدود رکھتے ہیں کہ ہمارے مال و دولت کا وارث ہو اور دنیا میں بڑا آدمی بن جائے۔اولاد کی خواہش صرف اس نیت سے درست ہو سکتی ہے کہ کوئی ولد صالح پیدا ہو جو بندگانِ خدا میں سے ہو۔لیکن جو لوگ آپ ہی دنیا میں غرق ہوں وہ ایسی نیست کہاں سے پیدا کر سکتے ہیں انسان کو چاہیے کہ خدا سے فضل مانگتار ہے۔تو اللہ تعالیٰ رحیم وکریم ہے۔نیت صحیح پیدا کرنی چاہیے ورنہ اولا دہی عبث ہے۔دنیا میں ایک بے معنی رسم چلی آتی ہے کہ لوگ اولا د ما نگتے ہیں اور پھر اولاد سے دکھ اٹھاتے ہیں۔دیکھو حضرت نوح