سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 199 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 199

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۹ کرتا ہوں۔ان سے معلوم ہو جائے گا کہ تعزیت تحریری میں آپ کا اسلوب کیا تھا۔حضرت حکیم الامت کے بیٹوں کے تعزیت نامے حضرت مولا نا مولوی نور الدین صاحب خلیفہ المسیح اول رضی اللہ عنہ ابھی جموں میں ملازم تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیعت کا اعلان بھی نہیں کیا تھا۔مولوی صاحب کو اسی زمانہ سے آپ کے ساتھ اخلاص و ارادت کا بے نظیر تعلق تھا۔اگست ۱۸۸۵ء میں حضرت مولوی صاحب کے دو بچے یکے بعد دیگرے فوت ہو گئے اور تیسرا بیمار ہو گیا۔آپ نے اس موقعہ پر حضرت مولوی صاحب کو تعزیت کا خط لکھا۔یہ خط قبولیت دعا کا بھی ایک نمونہ ہے اور اس میں دعا کے قبول ہونے کا ایک گر بھی بتایا گیا ہے۔میں اس خط کو جو یہاں درج کر رہا ہوں وہ آپ کا نمونہ تعزیت دکھانے کے مقصد سے درج کر رہا ہوں۔آپ تحریر فرماتے ہیں:۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ از عاجز عائذ باللہ الصمد غلام احمد۔بخدمت اخویم مکرم و مخدوم حکیم نور الدین صاحب سَلَّمَهُ اللهُ تَعَالَى السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا۔حال صدمہ وفات دولخت جگران مخدوم و علالت طبیعت پسر سوم سن کر موجب حزن و اندوه ہوا۔اللہ تعالیٰ جَلَّشَانُہ آپ کو صدمہ گزشتہ کی نسبت صبر عطا فرمادے اور آپ کے قرۃ العین فرزند سوم کو جلد تر شفا بخشے۔انشاء اللہ القدیر یہ عاجز آپ کے فرزند کی شفاء کے لئے دعا کرے گا۔اللہ تعالیٰ مجھ کو اپنے فضل وکرم سے ایسی دعا کی توفیق بخشے جو اپنی جميع شرائط کی جامع ہے۔یہ امرکسی انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اس کی مرضات حاصل کرنے کے لئے اگر آپ خفیہ طور پر اپنے فرزند دلبند کی شفا حاصل ہونے پر اپنے دل میں کچھ نذر مقرر کر رکھیں تو عجیب نہیں کہ وہ نکتہ نواز جو خود اپنی ذات میں کریم و رحیم ہے آپ کی اس صدق دلی کو قبول فرما کر ورطہ عموم سے