سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 101
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا 1+1 حصّہ اوّل کتاب میں لکھا گیا ہے اس لئے اس پر اس وقت زیادہ بحث کی ضرورت نہیں۔(۳) ایک چاول چرانے والی خادمہ کا واقعہ حضرت مخدوم الملت مولا نا مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ الحکم میں ہفتہ وار ایک خط لکھا کرتے تھے جو نہایت مقبول ہوتے تھے۔ان خطوط میں سے بعض میں آپ نے حضرت مسیح موعود یہ السلام کی سیرت کے بعض حصص بھی لکھے جو کے نام سے الگ بھی شائع ہوئی ہے۔اس میں وہ تحریر فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اندر سے کچھ چاول چرائے چور کا دل نہیں ہوتا اور اس لئے اس کے اعضاء میں غیر معمولی قسم کی بے تابی اور اس کا ادھر ادھر دیکھنا بھی خاص وضع کا ہوتا ہے کسی دوسرے تیز نظر نے تاڑ لیا اور پکڑ لیا۔شور پڑ گیا۔اس کی بغل سے کوئی پندرہ سیر کی گھری چاولوں کی نکلی۔ادھر سے ملامت اُدھر سے پھٹکار ہورہی تھی جو حضرت کسی تقریب سے اُدھر آ نکلے پوچھنے پر کسی نے واقعہ کہہ سنایا۔فرمایا۔محتاج ہے کچھ تھوڑے سے اسے دے دو اور فضیحت نہ کرو اور خدا تعالیٰ کی ستاری کا شیوہ اختیار کرو ( مصنفہ حضرت مولا نا عبدالکریم صاحب سیالکوئی صفحہ ۲۵) غور کرو اور بتاؤ کہ کیا یہ کسی معمولی حوصلہ اور قلب کے انسان کا کام ہے یا یہ فعل ایسے عالی ہمت سے سرزد ہو سکتا ہے جس کا دل ہر قسم کی تلخی سے صاف کردیا گیا ہو اور کو ہ وقار ہو۔چوری کی ہے اور خوب کی ہے اور معلوم نہیں کہ کتنے دنوں اور عرصہ سے یہ کام جاری تھا مگر خدا کا برگزیدہ فرستادہ ظاہر ہو جانے اور پکڑے جانے پر بھی صاف معاف کر دیتا ہے اور نہ صرف معاف کرتا ہے بلکہ کچھ دے دیتا ہے۔اور دوسروں کو فضیحت سے روکتا ہے۔(۴) حضرت خلیفہ امسیح ثانی کا ایک واقعہ حضرت مولا نا عبد الکریم رضی اللہ عنہ اپنی اسی سیرت میں لکھتے ہیں۔د محمود ( حضرت خلیفہ ثانی) چار ایک برس کا تھا۔حضرت معمولاً اندر بیٹھے لکھ