سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 102
سیرت ت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۲ حصّہ اوّل رہے تھے میاں محمود دیا سلائی لے کر وہاں تشریف لائے اور آپ کے ساتھ بچوں کا ایک غول بھی تھا۔پہلے کچھ دیر تک آپس میں کھیلتے جھگڑتے رہے پھر جو کچھ دل میں آئی ان مسودات کو آگ لگا دی اور آپ لگے خوش ہونے اور تالیاں بجانے اور حضرت لکھنے میں مصروف ہیں سر اٹھا کر دیکھتے بھی نہیں کہ کیا ہو رہا ہے اتنے میں آگ بجھ گئی اور قیمتی مسودے راکھ کا ڈھیر ہو گئے اور بچوں کو کسی اور مشغلہ نے اپنی طرف کھینچ لیا۔حضرت کو سیاق عبارت کو ملانے کے لئے کسی گذشتہ کاغذ کے دیکھنے کی ضرورت ہوئی۔اس سے پوچھتے ہیں خاموش اس سے پوچھتے ہیں دبکا جاتا ہے۔آخر ایک بچہ بول اٹھا کہ میاں صاحب نے کاغذ جلا دیئے عورتیں بچے اور گھر کے سب لوگ حیران اور انگشت بدنداں کہ اب کیا ہو گا۔اور در حقیقت عادتا ان سب کو علی قدر مراتب بُری حالت اور مکر وہ نظارہ کے پیش آنے کا گمان اور انتظار تھا اور ہونا بھی چاہیے تھا۔مگر حضرت مسکرا کر فرماتے ہیں ”خوب ہوا اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی بڑی مصلحت ہوگی اور اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس سے بہتر مضمون ہمیں سمجھائے۔“ مولا نا فرماتے ہیں کہ اس موقعہ پر بھی ابنائے زمانہ کی عادات سے مقابلہ کئے بغیر ایک نکتہ چین نگاہ کو اس نظارہ سے واپس نہیں ہونا چاہیے۔“ ( مصنفہ حضرت مولا نا عبدالکریم صاحب سیالکوئی صفحہ ۲۱،۲۰) حقیقت میں اس صدمہ اور تکلیف کو وہ شخص محسوس کر سکتا ہے جس نے بحیثیت ایک مصنف کے کبھی کام کیا ہو اُس کی گھبراہٹ اور اضطراب کا اس وقت اندازہ کرنا چاہیے جبکہ اس کی محنت اور تلاش کی ساری متاع ایک دم میں ضائع ہو جائے مگر دیکھو! کہ یہ خدا کا برگزیدہ ذرا بھی چیں بہ جبیں نہیں ہوتا وہ اس کو ایک معمولی بات سمجھتا ہے اور اپنے خدا پر اسے اس قدر ایمان ہے کہ وہ بہتر سے بہتر عطیہ کا یقین رکھتا ہے اس سے یہ بات بآسانی سمجھ میں آجاتی ہے کہ اُس کی تصانیف اس کی اپنی محنت اور کاوش کا نتیجہ نہیں بلکہ وہ اسے خدا سے پاتا ہے اور اس کے لا انتہا خزانوں پر ایک لذیذ ایمان رکھتا ہے۔