سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 100 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 100

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حصہ اول موقع پر اگر کوئی اور آقا ہو تو خدا جانے اس کے غصہ اور غضب کی کیا حالت ہوتی مگر خدا تعالیٰ کے برگزیدہ اور فرستاده مسیح موعود علیہ السلام کے عفو اور درگزر کی شان کو ملاحظہ کرو کہ اس کے قلب مطہر پر اس سے کچھ اثر ہی نہیں پڑتا۔اور وہ نہ نقصان کی پرواہ کرتا ہے اور نہ اسے غصہ آتا ہے بلکہ اس نقصان پر خدا کا شکر اس لئے کرتا ہے کہ اس نے اپنے فضل سے مزید نقصان سے محفوظ رکھا۔(۲) ایک اور واقعہ اسی طرح پر خان صاحب اکبر خان صاحب نے بتایا کہ مسجد مبارک کی اوپر کی چھت پر سے حضرت اقدس کے مکان پر جانے کے لئے پہلے بھی اسی طرح ایک راستہ ہوتا تھا۔( جس مقام پر آج کل دروازہ ہے یہاں چھوٹی سی کھڑکی ہوتی تھی اور اس کے نیچے ایک لکڑی کی سیڑھی ہوتی تھی۔ایڈیٹر ) جیسا کہ اب ہے اور اس میں نیچے اترنے کے لئے ایک دیار کی سیڑھی لگی ہوئی تھی۔ایک دفعہ میں لالٹین اٹھا کر حضرت اقدس کو راستہ دکھانے لگا اتفاق سے لالٹین ہاتھ سے چھوٹ گئی لکڑی پر تیل پڑا اوپر سے نیچے تک آگ لگ گئی ہمیں بہت پریشان ہوا۔بعض لوگ بھی کچھ بولنے لگے لیکن حضرت اقدس نے فرمایا ” خیر ! ایسے واقعات ہو ہی جاتے ہیں مکان بچ گیا۔“ یہ واقعہ اپنی نوعیت میں اس پہلے سے کم نہیں بلکہ ایک طرح بڑھ کر ہے وہ غفلت تو ایک بچہ کی تھی مگر یہ حرکت ایک تجربہ کار آدمی سے وقوع میں آئی مگر حلم و عفو کے مجسمہ نے اسے بھی معاف ہی کر دیا اور اس نقصان کو نظر انداز کر کے اس بات کا خیال فرمایا کہ مکان بچ گیا۔اس میں دراصل یہ بھی ایک سبق ہے کہ ایسے موقعہ پر انسان کس طرح پر اپنے غیظ و غضب کے جذبات کو دبا سکتا ہے اور اس کی یہی صورت ہے کہ اس نقصانِ عظیم کا خیال کرے جس کے ہونے کا احتمال ہوسکتا تھا۔بہر حال آپ نے دونوں موقعوں پر درگزر سے کام لیا۔اور نہ تو خان صاحب کو کچھ کہا اور نہ ان کی صاحب زادی کو۔یہ واقعات آپ کی سیرت کے ایک اور پہلو پر بھی روشنی ڈالتے ہیں کہ کیسا قلب مطمئن آپ کے سینہ میں تھا اور کوئی گھبراہٹ اور اضطراب آپ کو آہی نہیں سکتی تھی چونکہ سکینت قلب پر الگ اسی