سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 575 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 575

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۷۵ حصہ پنجم۔پیشگوئیوں سے ڈراتا ہے اور کبھی بشارتوں کے وعدے دیتا ہے۔اور کبھی خدا تعالیٰ کے حضور جھکتا ہے اور روتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں یہ سب نظارے موجود ہیں حضرت اقدس نے ہزار ہا مرتبہ آستانہ الہی پر بجز کے ساتھ سر جھکایا اور اپنی قوم کے لئے روروکر دعا کی۔آج میں اس کا ایک منظر پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ یا اے مرے پیارے فدا ہو تجھ پہ ہر ذرہ مرا پھیر دے میری طرف اے سا رہاں جنگ کی مہار کچھ خبر لے تیرے کوچہ میں یہ کس کا شور ہے خاک میں ہوگا یہ سرگر تو نہ آیا بن کے یار فضل کے ہاتھوں سے اب اس وقت کر میری مدد کشتی اسلام تا ہو جائے اس طوفاں سے پار میرے سقم و عیب سے اب کیجئے قطع نظر تانہ خوش ہود شمن دیں جس پہ ہے لعنت کی مار میرے زخموں پر لگا مرہم کہ میں رنجور ہوں میری فریادوں کوسن میں ہو گیا زار ونزار دیکھ سکتا ہی نہیں میں ضعف دینِ مصطفے مجھ کو کراے میرے سُلطاں کامیاب و کامگار کیا سلائے گا مجھے تو خاک میں قبل از مُراد یہ تو تیرے پر نہیں امید اے میرے حصار فضل کر اسلام پر اور خود بچا اس شکستہ ناؤ کے بندوں کی اب سُن لے پکار قوم میں فسق و فجور و معصیت کا زور ہے چھا رہا ہے ابر یاس اور رات ہے تاریک و تار ایک عالم مر گیا ہے تیرے پانی کے بغیر پھیر دے اب میرے مولیٰ اس طرف دریا کی دھار اب نہیں ہیں ہوش اپنے ان مصائب میں بجا رحم کر بندوں پر اپنے تا وہ ہوویں رستگار کس طرح نپٹیں کوئی تدبیر کچھ بنتی نہیں بے طرح پھیلی ہیں یہ آفات ہر سُو ہر کنار ڈوبنے کو ہے یہ کشتی آمرے اے ناخدا آ گیا اس قوم پر وقت خزاں اندر بہار نور دل جاتا رہا اور عقل موٹی ہو گئی اپنی کجرائی پر ہر دل کر رہا ہے اعتبار جس کو ہم نے قطرۂ صافی تھا سمجھا اور تقی غور سے دیکھا تو کیڑے اس میں بھی پائے ہزار دوربین معرفت سے گند نکلا ہر طرف اس وبا نے کھالئے ہر شاخ ایماں کے ثمار اے خدا دن تیرے ہو یہ آبپاشی کس طرح جل گیا ہے باغ تقویٰ دیں کی ہے اب اک مزار