سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 576
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۷۶ حصہ پنجم تیرے ہاتھوں سے مرے پیارے اگر کچھ ہو تو ہو ورنہ فتنہ کا قدم بڑھتا ہے ہر دم سیل وار اک نشاں دکھلا کہ اب دیں ہو گیا ہے بے نشاں اک نظر کر اس طرف تا کچھ نظر آوے بہار تیرے مُنہ کی بھوک نے دل کو کیا زیر و زبر اے مرے فردوس اعلیٰ اب گرا مجھ پر شمار اے خدا اے چارہ ساز درد ہم کو خود بچا اے مرے زخموں کے مرہم دیکھ میرا دل فگار تیرے بن اے میری جاں یہ زندگی کیا خاک ہے ایسے جینے سے تو بہتر مر کے ہو جانا غبار اے میرے پیارے ضلالت میں پڑی ہے میری قوم تیری قدرت سے نہیں کچھ دور یہ پائیں سدھار كشتي اسلام بے لطف خدا اب غرق ہے اے جنوں کچھ کام کر بیکار ہیں عقلوں کے وار مجھ کو دے اک فوق عادت اے خدا جوش و تپش جس سے ہو جاؤں میں غم میں دیں کے اک دیوانہ وار وہ لگا دے آگ میرے دل میں ملت کیلئے شعلے پہنچیں جس سے ہر دم آسماں تک بیشمار اے خُدا تیرے لئے ہر ذرہ ہو میرا خدا مجھ کو دکھلا دے بہار دیں کہ میں ہوں اشکبار خاکساری کو ہماری دیکھ اے دانائے راز کام تیرا کام ہے ہم ہو گئے اب بے قرار اک کرم کر پھیر دے لوگوں کو فرقاں کی طرف نیز دے توفیق تا وہ کچھ کریں سوچ اور بچار کیسے پتھر پڑ گئے ہے ہے تمہاری عقل پر دیں ہے منہ میں گرگ کے تم گرگ کے خود پاسدار ہر طرف سے پڑ رہے ہیں دین احمد پر تبر کیا نہیں تم دیکھتے قوموں کو اور اُن کے وہ وار کون سی آنکھیں جو اُس کو دیکھ کر روتی نہیں کون سے دل ہیں جو اس غم سے نہیں ہیں بے قرار کھا رہا ہے دیں طمانچے ہاتھ سے قوموں کے آج اک تزلزل میں پڑا اسلام کا عالی منار یہ مصیبت کیا نہیں پہنچی خدا کے عرش تک کیا یہ شمس الدیں نہاں ہو جائے گا اب زیر غار جنگ روحانی ہے اب اس خادم و شیطان کا دل گھٹا جاتا ہے یارب سخت ہے یہ کا رزار ہر نبی وقت نے اس جنگ کی دی تھی خبر کر گئے وہ سب دعا ئیں بادو چشم اشکبار اَےخدا شیطاں پہ مجھ کو فتح دے رحمت کے ساتھ وہ اکٹھی کر رہا ہے اپنی فوجیں بے شمار