سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 571 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 571

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۷۱ حصہ پنجم پھر اس دعا سے یہ بھی ظاہر ہے کہ آپ علی وجہ البصیرت یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ ان تین سال تک میں زندہ رہوں گا۔ورنہ تین سال کی قید نہ لگاتے ایک عاجز انسان جو نہیں کہہ سکتا کہ وہ اپنی زندگی کا دوسرا سانس بھی لے گا یا نہیں جب تک خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور اس کی دی ہوئی بشارتوں پر یقین نہ رکھتا ہو اس طرح پر تعینمدت نہیں کر سکتا۔ان تین سالوں میں جو نشانات آپ کی تائید میں ظاہر ہوئے ان کی تفصیل اس جگہ میرا موضوع نہیں مجھے صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرنا ہے جو اس دعا سے ظاہر ہوتے ہیں۔اوّل آپ کا خدا تعالیٰ سے تعلق اور قرب اور اس کے کلام پر کامل ایمان۔دوم دعاؤں کی قبولیت کا یقین اور وثوق اور خصوصیت سے اپنے مستجاب الدعوات ہونے کا اقرار سوم آپ کے تو کل علی اللہ کا اظہار۔چہارم دعاؤں میں آداب دعا کی معرفت جس کو مدنظر نہ رکھنے کی وجہ سے انسان خائب و خاسر ہو جاتا ہے۔ہم اس امر کا تعین کہ صادق کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ششم اپنی بعثت و ماموریت پر یقین کامل۔غرض اس دعا کے الفاظ میں آپ کی سیرت پر بڑی وسیع روشنی پڑتی ہے دن بھر کا تھکا ماندہ پرند کس شوق سے اپنے آشیانہ کی طرف رُخ کرتا ہے وہی شوق اور جوش آپ کو خدا تعالیٰ کی ذات میں تھا۔گویا آپ کا صبر و سکون باب رب العزت پر گرنے میں ہی تھا آپ کے دل کا اطمینان آپ کی تسلی و خوشی آپ کی راحت اور قوت کا سارا سامان خدا تعالیٰ کی آغوش میں تھا اور اللہ تعالیٰ کے نام سے آپ کی روح میں قوت پرواز پیدا ہوتی تھی اور وہ اس طرح پر اچھلتی تھی جیسے پانی ایک بلند چشمہ میں اُبلتا ہے اور آستانہ الوہیت پر اس طرح پر گرتی تھی جیسے پانی آبشار سے گرتا ہے اور آپ اس حالت میں اوپر ہی اوپر جاتے تھے۔اگر حضرت مسیح موعود کو اپنے مامور من اللہ ہونے اور اس کلام کے متعلق جو آپ پر نازل ہوتا تھا ذرا بھی نعوذ باللہ شبہ ہوتا تو اپنے لئے اس قسم کی دعا نہ مانگتے۔میں پہلے آپ کی ایک دعا درج کر آیا ہوں جس میں آپ نے بصورت مفتری علی اللہ ہونے کے تباہی و بربادی کی دعا کی تھی اور خدا تعالیٰ نے اس کے بعد اپنی برکات اور فضلوں کے سلسلہ کو اور