سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 570
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۷۰ حصہ پنجم خدا تعالیٰ کی مخلوق کو خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے لئے جو تڑپ اور جوش ہے، اس کا اظہار ہے آپ دنیا کی ہلاکت نہیں بلکہ نجات کے خواہش مند ہیں اس دعا میں اپنی ذات کے لئے کوئی امر مقصود نہیں بلکہ فرمایا کہ دیکھ میری روح نہایت تو کل کے ساتھ تیری طرف ایسی پرواز کر رہی ہے جیسے کہ پرندہ اپنے آشیانہ کی طرف آتا ہے میں تیری قدرت کے نشان کا خواہش مند ہوں لیکن نہ اپنے لئے اور نہ اپنی عزت کے لئے بلکہ اس لئے کہ لوگ تجھے پہچانیں اور تیری پاک راہوں 66 کو اختیار کریں اور جس کو تو نے بھیجا ہے اس کی تکذیب کر کے ہدایت سے دور نہ پڑ جائیں۔“ اور پھر اس دعا کا مقصد مکرر بیان کیا کہ تو میرے لئے آسمان سے ان تین برسوں کے اندر گواہی دے تا ملک میں امن اور صلح کاری پھیلے اور تا لوگ یقین کریں کہ تو موجود ہے اور دعاؤں کو سنتا اور ان کی طرف جو تیری طرف جھکتے ہیں جھکتا ہے۔کیسا پاک اور عظیم المرتبت مقصد ہے یہ مقصد عظیم بجز خدا تعالیٰ کے مامور کے کسی کا نہیں ہوسکتا۔ان سے بڑھ کر کوئی شخص خدا تعالیٰ کی مخلوق کا ہمدرد اور خیر خواہ نہیں ہوتا اور ان کی خیر خواہی اس رنگ میں ہوتی ہے کہ وہ انسان کا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر دیں جو زندگی کا اصل مقصد ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق قرآن مجید شہادت دیتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: ۴) کیا تو اپنی جان کو اس غم وہم میں ہلاک کر دے گا کہ یہ لوگ کیوں مومن باللہ نہیں ہوتے۔یہی روح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں بولتی ہے اور وہ مخلوق کی ہدایت کے لئے بے قرار ہیں ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں۔بدل در دے کہ دارم از برائے طالبان حق نے گردد بیان آن درد از تقریر کو تا ہم ترجمہ۔وہ درد جو میں طالبانِ حق کے لئے اپنے دل میں رکھتا ہوں اس درد کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔