سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 394
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۴ حضرت کے قریب جا بیٹھتا۔میں نے دیکھا کہ اگر وہاں جگہ تنگ ہے تو حضرت خود ایک طرف کو کھل کر بیٹھ جاتے۔اور اس کو جگہ دے دیتے۔وہ ایک معمولی آدمی تھا۔دنیا کے عرف کے لحاظ سے اپنی قوم یا شہر میں کوئی امتیازی درجہ اس کو حاصل نہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دن بھی یہ نہ کہا کہ تم یہ کیا کرتے ہو۔گو بعض لوگ اس کی اس حرکت کو نا پسند کرتے مگر حضرت نے کبھی اس کو نا پسند نہ فرمایا۔جب کبھی آپ باہر جاتے تو آپ کے خدام جو ساتھ ہوتے۔ان کو اپنے ساتھ دستر خوان پر بٹھا کر کھانا کھاتے اور یہ پسند ہی نہ کرتے کہ وہ الگ کھا ئیں۔میرے محترم بھائی حضرت منشی عبد اللہ صاحب سنوری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مجھے ہوشیار پور کا ایک واقعہ سنایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور نے اپنے صاحبزادہ کی شادی پر مدعو فرمایا، اس سفر میں آپ کے ساتھ میر عباس علی لود بانوی حافظ حامد علی صاحب اور خود منشی صاحب موصوف حضور کے ہمراہ تھے۔شیخ مہر علی صاحب نے عرف عام کے موافق یہ انتظام کیا ہوا تھا کہ رؤسا کے لئے کھانے کا الگ انتظام تھا۔یعنی ان کے لئے ایک خاص کمرہ رکھا ہوا تھا۔جہاں تمام بڑے بڑے رئیس کھانا کھاتے تھے۔اور ان کے خدام اور نوکروں کے واسطے ایک جدا مکان تھا۔یعنی کھانے کے انتظام پر وہ اس قسم کا امتیاز کرتے تھے۔اور اس کو ہتک سمجھتے تھے کہ رئیسوں کے ساتھ ان کے نوکر بیٹھ کر کھانا کھاویں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کو جائز نہ سمجھتے تھے۔اس لئے آپ کا معمول یہ تھا کہ جب کھانے کے لیے آپ تشریف لے جاتے اور اس خاص کمرے کے دروازہ پر جاتے۔تو آپ باہر کھڑے ہو جاتے۔اور اپنے ہر سہ رفقاء کو خود اپنے سے پہلے داخل فرماتے اور جب تک وہ داخل نہ ہولیں باہر کھڑے رہتے۔اور پھر دستر خوان پر ان کو اپنے دائیں بائیں بٹھا کر آپ درمیان میں تشریف رکھتے تا کہ ان کو کوئی تکلیف نہ ہو۔اور وہ آزادی اور بے تکلفی سے کھانا کھا لیں۔یہ قابل غور امر ہے ایسے موقعہ پر بالطبع انسان اپنے شرف اور رتبہ کے اظہار کا خواہش مند ہوتا ہے اور وہ اپنے عمل سے، طرز کلام سے دوسروں پر ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ بہت بڑا آدمی ہے۔اور دوسرے اس کے نوکر اور غلام ہیں۔یہ آج کی بات نہیں۔بلکہ آج سے قریباً چالیس بیالیس برس پیشتر کا واقعہ ہے جبکہ اس قسم کے عرفی