سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 395 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 395

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۵ امتیازات پر لوگ مرتے تھے۔اور پرانے فیشن کے لوگ تو اب تک اس کے دلدادہ اور گرویدہ ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس تقریب پر جبکہ پنجاب کے قریباً تمام بڑے بڑے رئیس اور اہلکار موجود تھے اپنے طرز عمل سے۔مساوات کا سبق دیا اور بتایا کہ انسانیت کے شرف کو قائم رکھنے کے لئے اس قسم کے امتیازات کو مٹا دینا چاہیے۔یہ نظیر اگر پائی جاتی ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں کہ آپ نے اسود و احمر کے سوال کو اڑا دیا۔چھوٹے اور بڑے کے امتیاز آقا اور نوکر کے تفرقہ کو مٹا کر سب کو بھائی بھائی بنا دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انسانیت کے گم شدہ شرف کو قائم کیا۔اور امتیاز ذات وقوم کو اٹھا کر صرف مسلمان کے نام میں سب کو شریک کر کے ایک کر دیا۔یہ تو آپ کے طرز عمل کا میں نے وہ واقعہ بیان کیا ہے جہاں عاد تا لوگ اس قسم کی جرات کر ہی نہیں سکتے۔اور وہ پسند ہی نہیں کرتے کہ کسی چھوٹے آدمی کو ( بخیال خویش ) اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائیں۔یہاں قادیان میں تو آپ کا گھر تھا۔اور کسی موقع کو بھی اس اخلاق فاضلہ کی تعلیم اور ترویج سے جانے نہ دیتے تھے۔خواجہ صاحب کو دال ملی اور ہماری شکایت ہوئی ایک موقعہ پر جب کہ سالانہ جلسہ تھا خاکسار عرفانی اور مفتی فضل الرحمن صاحب مہمانوں کے کھانے وغیرہ کے انتظام کے لئے مقرر ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاف الفاظ میں ہدایت فرمائی کہ سب کے ساتھ یکساں سلوک ہو۔اور تمام کو ایک ہی قسم کا کھانا دیا جاوے۔انتظام کے ماتحت ایک وقت دال پکتی تھی اور سب مہمانوں کو دال ہی پیش کی گئی۔خواجہ کمال الدین صاحب (آہ جو معلوم کر کے سب کچھ محروم ہو گئے ہیں۔عرفانی) مرغن پلاؤ اور گوشت کھانے کے شوقین تھے۔ان کو