سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 393 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 393

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۳ دی۔آپ کی تعلیمات میں تو اس کے متعلق بہت سی تصریحات آئی ہیں۔اور مختلف موقعوں پر آپ نے اپنے خدام کو اس کی طرف متوجہ کیا۔مگر سب سے بڑھ کر جو بات تھی وہ آپ نے اپنی عملی زندگی میں اس اصول کو دکھایا۔اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے مساوات کی ایک لہر جماعت میں پیدا ہو چکی ہے۔اور وہ اپنے اثرات کو اس قدر وسیع کر رہی ہے۔کہ ہندوستان کے وہ مسلمان جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنی نادانی سے مخالفت کرتے تھے۔اس ضرورت کا احساس کر رہے ہیں۔اور تنظیم کے نام سے مساوات عامہ کی تبلیغ کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔اب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ان واقعات کو دکھاتا ہوں۔جو عملی مساوات کا سبق دینے والے تھے۔یہ سب جانتے ہیں کہ دوسروں کو حقیر سمجھنے یا اپنے برابر نہ جاننے کے لئے جو عملی صورتیں اس وقت مروج ہیں۔وہ یہ ہیں کہ ایسے لوگوں کے ساتھ نشست و برخاست - طریق تخاطب و کلام اور با ہم خورد ونوش اور باہم رشتہ داری کے معاملات میں مساوات کا برتاؤ نہیں کیا جاتا۔مثلاً کھانا کھانے بیٹھتے ہیں۔تو جس شخص کو حقیر یا چھوٹا سمجھتے ہیں۔اس کو اپنے ساتھ بٹھانے سے مضائقہ کریں گے۔اور جب اس کو پکاریں گے تو کسی عزت کے کلمہ سے خطاب نہ کریں گے۔بلکہ او۔تو۔وغیرہ کے کلمات استعمال کریں گے۔علی ہذا القیاس۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے طرز عمل سے بتایا کہ یہ باتیں فضول ہیں۔اور آپ نے کبھی اور کسی حال میں اس قسم کے برتاؤ کو جائز نہ سمجھا۔کھانا کھاتے وقت کوئی امتیاز نہ کرتے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جب تک یہ معمول تھا کہ آپ باہر اپنے دوستوں کے ساتھ کھانا کھایا کرتے کبھی آپ نے یہ امتیاز نہ کیا کہ کون آپ کے پاس بیٹھا ہوا ہے۔اور نہ کبھی کسی کومحض اس وجہ سے اٹھانے کو جائز سمجھا کہ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں۔یا وہ ان پڑھ زمیندار یا کسی اور قوم کا آدمی ہے۔آپ کے دستر خوان پر ہر شخص آزادی کے ساتھ جہاں چاہتا بیٹھ جاتا۔ایک شخص خا کی شاہ نام راہوں کا رہنے والا ایک وقت یہاں رہا کرتا تھا۔اس کی عادت تھی کہ جب کھانا لا یا جاتا وہ کو دکر