سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 328 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 328

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۸ منشی کرم علی صاحب کے بیٹے رحمت اللہ کا حضرت کو چمٹ جانا (۱) قادیان کے آریہ اور ہم “ کا شائع ہونا تھا کہ جو نہ شبھ چپتک رہا، نہ اس کا ایڈیٹر، نہ اس کا مربی ، نہ مدرسہ یہ معجزہ میری آنکھوں نے دیکھا۔مگر افسوس کہ اکثر لوگ بے ایمان ہی رہے۔اس رسالہ کی نظم کا ایک شعر تھا جس کی دعا سے آخر لیکھو مرا تھا کٹ کر ماتم پڑا تھا گھر گھر وہ میرزا یہی ہے منشی کرم علی صاحب کا تب کے چھوٹے سے بچے رحمت اللہ (جواب بفضلہ جوان جی اے۔وی اور قادیان ہی میں مدرس ہیں) نے اپنی سریلی آواز میں پڑھا اور جب وہ اس شعر پر پہنچا تو بے اختیار دوڑ کر ساتھ چمٹ گیا اس کی یہ بات اب تک مجھے یاد ہے۔(۲) حافظ ابراہیم صاحب کھڑکی کے پاس بیٹھ رہتے۔( یہ کھڑ کی وہ ہے جو بیت الفکر سے بیت الذکر میں آنے کے لئے ہے۔عرفانی) حضور جب تشریف لاتے تو سب سے پہلے یہ ضرور لباس مبارک پر ہاتھ پھیر کر برکات کوٹ لیتے۔حضور کبھی منع نہ فرماتے۔(۳) ایک روز شیخ رحمت اللہ صاحب و دیگر احباب لا ہور تشریف لائے۔تو طبیعت ناساز تھی۔فرمایا کہ اندر ہی آجاؤ۔(حضور" اس وقت اُس کمرے میں تھے جس کا دروازہ بیت الفکر میں کھلتا ہے۔عرفانی) میں بھی ساتھ ہی چلا گیا۔حضور ایک پلنگ پر تشریف فرما تھے جو اتنا چوڑا تھا جتنی بالعموم چار پائیاں ہوتی ہیں۔( یہ پلنگ حضور کی تمام ضروریات تصنیف و تالیف کا کام دیتا تھا۔اس لئے وہ لمبا چوڑا بنوایا تھا۔عرفانی) اس کے سرہانے ایک چھوٹا سا میز تھا۔اس پر بتیاں بہت سی پڑی تھی۔(حضور موم بتی کی روشنی کرتے۔اور ایک ہی وقت کئی بتیاں روشن کر لیا کرتے تھے۔تا کہ کافی روشنی ہو۔عرفانی ) ایک دوات تھی۔جس کے گرد غالبا مٹی تھی ہوئی تھی۔( یہ ایک رکابی میں رکھ کر اس کے اردگرد مٹی لگا دی گئی تھی۔تا کہ گر نہ پڑے۔عرفانی) لوگ بے تکلفی سے جہاں جس کو جگہ ملی بیٹھ گئے۔کوئی چار پائی پر کوئی صندوق پر کوئی ٹرنک پر کوئی دہلیز پر کوئی فرش پر دیر تک ہم بیٹھے رہے۔اور حضور کے